کامران المصطفیٰ نام رکھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کامران المصطفی نام رکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کامران المصطفیٰ نام رکھنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟
جواب
کامران المصطفیٰ نام رکھنا شرعاً درست ہے۔ کامران کا معنی ہے: کامیاب، خوش قسمت۔ اور المصطفیٰ کا معنی ہے: منتخب، برگزیدہ۔ یہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کا صفاتی نام ہے۔ یوں کامران المصطفیٰ کا مطلب ہوا: مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کا کامیاب (غلام / امتی)۔
البتہ! بہتر یہ کہ بچے کا نام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام، صحابہ کرام و الیائے کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے، کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اس سے ان نیک ہستیوں کی برکت بھی بچے کے شامل حال ہو گی۔ اردو لغت تاریخی اصول پر میں ہے: کامران: کامیاب، خوش نصیب، خوش قسمت۔ (اردو لغت تاریخی اصول پر، جلد 14، صفحہ 548، مطبوعہ: کراچی)
القاموس الوحید میں ہے المصطفی: منتخب، پسندیدہ، برگزیدہ۔ (القاموس الوحید، صفحہ 932، مطبوعہ: کراچی)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے
تسموا بخياركم
ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4658
تاریخ اجراء: 02 شعبان المعظم 1447ھ / 22 جنوری 2026ء