logo logo
AI Search

خبیب نام رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خبیب (Khubaib) نام رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا خبیب نام رکھنا درست ہے؟

جواب

خُبَیْب نام رکھنا نہ صرف درست، بلکہ بہتر ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے، اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔

اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ہے

خبیب بن الاسود الانصاری۔۔۔ ھو من اصحاب النبی صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم و شھد بدراً

ترجمہ: خبیب بن اسود انصاری رضی اللہ تعالی عنہ، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے صحابہ میں سے ہیں اور انہوں نے غزوہ بدر میں بھی شرکت کی۔ (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 1، صفحہ 524، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

جامع الاصول میں ہے

خبیب: بضم الخاء المعجمۃ، و فتح الباء الموحدۃ، و سکون الیاء، و بعدھا باء اخری موحدۃ

ترجمہ: خبیب، خاء کے پیش اور باء کے زبر اور یاء کے سکون کے ساتھ ہے اور یاء کے بعد دوسری باء ہے۔ (جامع الاصول، جلد 12، صفحہ 191، دار البیان)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے

تسموا بخياركم

ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4747
تاریخ اجراء: 28 شعبان المعظم1447ھ / 17 فروری2026ء