خفاف نام رکھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خفاف نام رکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا خفاف نام رکھنا درست ہے؟
جواب
خُفَاف نام رکھنا نہ صرف درست بلکہ بہتر ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے، اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔
الثقات لابن حبان میں ہے
خفاف بن ایماء۔۔۔ لہ صحبۃ
ترجمہ: خفاف بن ایماء رضی اللہ تعالی عنہ رتبہ صحابیت سے مشرف ہیں۔ (الثقات لابن حبان، جلد 3، صفحہ 109، مطبوعہ: الھند)
شرح السیوطی علی مسلم میں ہے
خفاف بضم الخاء
ترجمہ: خفاف، خاء کے پیش کے ساتھ ہے۔ (شرح السیوطی علی مسلم، جلد 2، صفحہ 312، مطبوعہ: السعودیۃ)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے
تسموا بخياركم
ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4743
تاریخ اجراء: 23شعبان المعظم1447ھ / 12فروری2026ء