logo logo
AI Search

میقات فاطمہ نام رکھنا کیسا؟

میقات فاطمہ نام رکھنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت عوت اسلامی)

سوال

میقات فاطمہ نام رکھنا کیسا؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

میقات فاطمہ نام رکھنا درست ہے، کہ یہ نام دو کلمات (میقات اور فاطمہ)کا مجموعہ ہے، دونوں میں سے ہر ایک کے ساتھ نام رکھ سکتے ہیں، تو دونوں کو ملا کر بھی رکھ سکتے ہیں۔ میقات کا معنیٰ ہے: " کسی کام کا مقررہ وقت یاجگہ۔" (القاموس الوحید، صفحہ 1880، مطبوعہ: کراچی)

اور فاطمہ، سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی ایک پیار صاحبزادی رضی اللہ تعالی عنھا کا نام ہے۔ مگر بہتر یہ ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنھا کی نسبت سے بچی کا نام صرف فاطمہ رکھیں یا نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ سلم کی ازواج مطہرات، صاحبزادیوں، نانیوں، دادیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے ناموں میں سے کوئی نام رکھیں کہ امید ہے ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی شامل حال ہو گی اور حدیث مبارکہ میں نیک لوگوں کے ناموں پر نام رکھنے کی ترغیب بھی موجود ہے۔

دو ناموں کو ملا کر رکھنے کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے ”کنیز و نذر و خادم کے ساتھ نام رکھنے میں بھی حرج نہیں، زمانہ سلف میں رواج نہ ہونا مستلزم ممانعت نہیں دو دو تین تین ناموں پرمشتمل نام رکھنا جیسے محمدعلی حسین اس کابھی رواج سلف کبھی نہ تھا سادے ایک لفظ کے نام ہوتے تھے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد24، صفحہ669، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے تسموا بخياركم ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔(الفردوس بماثور الخطاب، جلد2، صفحہ58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد3، حصہ 15، صفحہ356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی

فتوی نمبر:WAT-4573

تاریخ اجراء:03 رجب المرجب1447ھ/24دسمبر2025ء