logo logo
AI Search

رومان نام رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچے کا نام رومان رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا رومان نام رکھنا درست ہے؟

جواب

رومان نام رکھنا نہ صرف درست بلکہ بہتر ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے، اور حدیثِ پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔ نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بچے کے شامل حال ہو گی۔

اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ہے

”رومان الرومی۔۔۔ مولی ام سلمۃ وولاؤہ للنبی صلی اللہ علیہ وسلم“

ترجمہ: رومان الرومی حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے غلام تھے اور ان کی ولاء نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے لئے تھی۔ (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 1، صفحہ 589، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مختصر تاریخ دمشق میں ہے

”رومان۔۔۔ مولی ام سلمۃ زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم، لہ صحبۃ“

ترجمہ: رومان نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام تھے، اور ان کو رتبہ صحابیت حاصل ہے۔  (مختصر تاریخ دمشق، صفحہ 302، مطبوعہ: دمشق)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“  (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4647
تاریخ اجراء:20 رجب المرجب1447ھ/10 جنوری 2026ء