logo logo
AI Search

شعیب نام رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا شعیب نام رکھنا درست ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا شعیب نام رکھنا درست ہے؟

جواب

شعیب نام رکھنا نہ صرف درست، بلکہ بہتر ہے کہ یہ اللہ تبارک و تعالی کے ایک برگزیدہ نبی علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کا نام ہے، اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔ قرآن پاک میں ارشادخداوندی ہے:

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْــٴَـیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ (۱۷۶) اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ (۱۷۷) اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ (۱۷۸)

ترجمہ کنزالایمان: بَنْ (جنگل) والوں نے رسولوں کو جھٹلایا، جب اُن سے شعیب نے فرمایا کیا ڈرتے نہیں، بے شک میں تمہارے لیے اللہ کا امانت دار رسول ہوں۔ (پارہ 19، سورۃ الشعرآء، آیات: 176، 177، 178)

حضرت شعیب علی نبینا و علیہ الصلوۃ السلام کے بارے میں سیرت الانبیاء میں ہے ”آپ علیہ السلام کا اسم گرامی شعیب ہے اور حسنِ بیان کی وجہ سے آپ کو خطیب الانبیاء کہا جاتا ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو دو قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ (1) اہل مدین۔ (2) اصحاب الاَیکہ۔“ (سیرت الانبیاء، صفحہ 505، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4756
تاریخ اجراء: 29 شعبان المعظم1447ھ/18 فروری 2026ء