logo logo
AI Search

ثمامہ نام رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثمامہ نام رکھنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا ثمامہ نام رکھنا درست ہے؟

جواب

ثُمامہ نام رکھنا نہ صرف درست بلکہ بہتر ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔

اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ہے ”ثمامۃ بن عدی القرشی لہ صحبۃ“ ترجمہ: ثمامہ بن عدی قرشی رضی اللہ تعالی عنہ رتبہ صحابیت سے مشرف ہیں۔ (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 1، صفحہ 342، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

حاشیۃ السیوطی علی سنن النسائی میں ہے ”ثمامۃ بضم المثلثۃ“ ترجمہ:  ثمامہ ثاء کے پیش کے ساتھ ہے۔ (حاشیۃ الیسوطی علی سنن النسائی، جلد 2، صفحہ 46، مطبوعہ: حلب)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4690
تاریخ اجراء: 09 شعبان المعظم 1447ھ/29 جنوری 2026ء