عقبہ نام رکھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بچے کا نام عقبہ رکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا عقبہ نام رکھنا درست ہے؟
جواب
عقبہ نام رکھنا بہتر ہے، کہ یہ متعدد صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا نام ہے، اور ہمیں حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔ نیز امید ہے کہ اس سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔
اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں متعدد صحابہ کرام علیہم الرضوان کا ذکر موجود ہے، جن کا نام عقبہ ہے، ان میں سے کچھ یہ ہیں:”عقبۃ بن الحارث۔۔۔ عقبۃ بن حلیس۔۔۔ عقبۃ بن الحنظلیۃ۔۔۔ عقبۃ بن رافع۔۔۔ عقبۃ بن ربیعۃ الانصاری۔۔۔ عقبۃ بن عامر“(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 2، صفحہ 332، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4668
تاریخ اجراء: 04 شعبان المعظم 1447 ھ/ 24 جنوری 2026ء