عزیر نام رکھنا کیسا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عزیر نام رکھنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا عزیر نام رکھنا درست ہے؟
جواب
عزیر نام رکھنا نہ صرف درست بلکہ بہتر ہے کہ یہ اللہ تبارک وتعالی کے ایک برگزیدہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا نام ہے اور ہمیں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ناموں پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔
حضرت عزیر علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کے بارے میں سیرت الانبیاء میں ہے ”آپ علیہ الصلوۃ و السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے۔ آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مردوں کو زندہ کرنے پر اپنی قدرت کا مشاہدہ کروایا جس سے آپ عین الیقین رکھنے والوں کے منصب پر فائز ہوئے۔۔۔ آپ علیہ السلام کا اسم گرامی عزیر ہے۔“ (سیرت الانبیاء، صفحہ 730، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
رسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم )نے ارشاد فرمایا: ”تسموا باسماء الانبیاء“ ترجمہ: تم انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام کے ناموں پر نام رکھو۔ (سنن ابی داود، جلد 4، صفحہ 88، حدیث: 4950، المکتبۃ العصریۃ، بیروت)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4689
تاریخ اجراء: 09 شعبان المعظم 1447ھ/29 جنوری 2026ء