آٹے میں انگلی کی کھال مل جائے تو کیا حکم ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انگلی سے معمولی سی کھال جدا ہو کر آٹے میں شامل ہوگئی تو آٹے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
انگلی پر ہلکی سی چوٹ لگی تھی، جس کی وجہ سے تھوڑی سی کھال اُکھڑ گئی تھی، لیکن ایک طرف سے جڑی ہوئی تھی۔ آٹا گوندھتے ہوئے بے خیالی میں وہ کھال کا ٹکڑا آٹے میں چپک کر انگلی سے الگ ہوگیا، اور آٹے میں اس طرح مل گیا کہ نظر بھی نہیں آیا۔ اس کا سائز تقریباً ایک تل یا دو تل کے برابر ہوگا۔ اس آٹے کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ استعمال کے قابل ہے یا نہیں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں وہ آٹا شرعاً قابل استعمال ہے، اتنی معمولی مقدار میں کھال کا ٹکڑا گرنےسے وہ آٹا ناپاک یا حرام نہیں ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے "سن آدمي طحن في وقر حنطة لا يؤكل، ولا يؤكله البهائم بخلاف ما يقشر من جلدة كفه قدر جناح الذباب أو نحوه واختلط بالطعام للضرورة" ترجمہ: گندم کے ڈھیر میں کسی آدمی کا دانت پیسا گیا ، تواسے نہ خود کھاسکتے ہیں اور نہ جانوروں کو کھلاسکتے ہیں۔ اس کے برعکس ہتھیلی کی کھال کااتنا ٹکڑا، جو تقریبا مکھی کے پر کے برابر ہو، اگر کھانے میں مل جائے، تو ضرورت کی وجہ سے اسے کھانا جائز ہوگا۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، ج 5، ص 339، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5153
تاریخ اجراء: 18 محرم الحرام 1448ھ / 04 جولائی 2026ء