ماہی گیروں کا ہاتھوں پر مہندی لگانے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ماہی گیروں کا کام کی وجہ سے ہاتھوں پر مہندی لگانا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ماہی گیروں (Fisherman's) کا بوجہ عذر اپنے ہاتھوں پر مستقل مہندی لگا کر رکھنا کیسا؟ عذر یہ ہے کہ ان کے ہاتھ مسلسل گیلے رہنے کی وجہ سے نرم پڑ جاتے ہیں، پھر مختلف کاموں مثلاً جال کھینچنے، جال سے مچھلیاں نکالنے، جھینگے وغیرہ صاف کرنے کی وجہ سے ہاتھ زخمی ہو جاتے اور پھٹ جاتے ہیں، تو مہندی لگانے سے ہاتھ کچھ سخت ہو جاتے ہیں اور مہندی کی ٹھنڈک کی وجہ سے زخموں کی حرارت میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔
جواب
جواب جاننے سے قبل تمہیداً یہ ذہن نشین کر لیجئے کہ مردوں کو ہاتھ یا پاؤں پر مہندی لگانا عورتوں سے مشابہت کی بنا پر ناجائز و حرام اور گناہ ہے، البتہ اگر ہاتھ پاؤں میں کوئی تکلیف ہو، تو مردوں کے لئے خاص ضرورت کے تحت بغرضِ علاج بطورِ دوا مہندی لگانا، جائز ہوگا، لیکن اس کے لئے چند امور کا خیال رکھنا ضروری ہے: (۱) وہ بیماری مہندی کے سوا کسی اور دوا وغیرہ سے زائل نہ ہوتی ہو۔ (۲) کوئی ایسی چیز میسر نہ ہو، جس سے مہندی کے رنگ کو زائل کیا جا سکے۔ (۳) مہندی اس انداز میں نہ لگائی جائے، جس سے زینت و آرائش ظاہر ہو، مثلاً ڈیزائن وغیرہ نہ بنائے جائیں۔
اس تمہید کے بعد شعبہ ماہی گیری سے تعلق رکھنے والے افراد سے حاصل ہونے والی معلومات یہ ہیں کہ فی زمانہ مہندی لگانے والا معاملہ بہت کم ہو چکا ہے، کیونکہ اب عمومی طور پر جال ہاتھوں کی بجائے مشین کے ذریعے کھینچا جاتا ہے، پھر جہاں ہاتھوں سے کام کی حاجت ہوتی ہے، وہاں موقع محل کی مناسبت سے دستانے بھی استعمال کئے جاتے ہیں، نیز مچھلی کے اجزاء سے بنا ہوا آئل بھی ملتا ہے، جسے ہاتھوں پر لگا لیا جائے، تو جلد پانی کے مضر اثرات سے محفوظ رہتی ہے، البتہ بعض اوقات جب ہاتھ زیادہ خراب ہو جائیں، تو دیگر چیزوں کے مقابلے میں مہندی سے زیادہ فرق پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں شرعی حکم یہ ہے کہ جب مہندی کے علاوہ کسی بھی چیز سے ہاتھوں کی حفاظت ممکن ہے اور زخمی ہونے کی صورت میں کسی کریم، دوا وغیرہ سے علاج ہو سکتا ہے، تو مردوں کو ہاتھوں پر مہندی لگانا حرام ہے، لہذا ماہی گیر حضرات کو اس مقصد کے لئے مہندی کا استعمال حرام ہے، وہ اس کے متبادل جائز چیزیں ہی استعمال کریں۔ البتہ اگر کبھی ایسی صورت بن جائے کہ دستانے نہ پہن سکتے ہوں، ہاتھ زخمی ہونے کی صورت میں کوئی آئل، کریم، دوا وغیرہ بھی کام نہ کرے، الغرض مہندی لگانے کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہ رہے، نیز ایسی کوئی چیز بھی نہ ملے جس سے مہندی کا رنگ ختم کیا جا سکے، تو خاص اس صورت میں مرد حضرات ہاتھوں پر علاج کی غرض سے دوا کے طور پر بقدرِ ضرورت مہندی لگا سکتے ہیں، لیکن پھر جونہی اس کا متبادل مل جائے یا ضرورت ختم ہو جائے تو ممانعت کا حکم لوٹ آئے گا اور مہندی لگانا، جائز نہ رہے گا۔
مہندی لگانا عورتوں سے مشابہت ہے اور مشابہت اختیار کرنے سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’لعن ﷲ المتشبھین من الرجال بالنساء والمتشابھات من النساء بالرجال‘‘ ترجمہ: اللہ نے لعنت فرمائی، ان مردوں پر جو عورتوں سے اور ان عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت اختیار کریں۔ (صحیح البخاری، کتاب اللباس، جلد 2، صفحہ 874، مطبوعہ کراچی)
سنن ابی داؤد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ: ’’ان النبي صلى اللہ عليه وسلم اتي بمخنث، قد خضب يديه ورجليه بالحناء، فقال النبي صلى اللہ عليه وسلم: ما بال هذا؟ فقيل:يا رسول اللہ! يتشبه بالنساء، فامربه فنفي الى النقيع‘‘ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت ميں ايک مخنَّث (ہيجڑے) کو لايا گيا، اس نے اپنے ہاتھ پاؤں مہندی سے رنگے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: ’’اس کا کيا معاملہ ہے؟‘‘ صحابہ کرام نے عرض کی: يہ عورتوں کی مشابہت اختيار کرتا ہے۔ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے جلا وطن کرنے کا حکم ارشاد فرمايا تو اُسے نقيع (مدینے سے دور ایک مقام) کی طرف جلا وطن کر دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، جلد 4، صفحہ 282، مطبوعہ بیروت)
مذکورہ حدیث پاک کے تحت ملا علی القاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’الحناء سنة للنساء ويكره لغيرهن من الرجال الا ان يكون لعذر، لانه تشبه بهن‘‘ ترجمہ: مہندی لگانا عورتوں کے لئے سنت ہے اور ان کے علاوہ مردوں کے لئے عورتوں سے مشابہت کی وجہ سے مکروہ ہے مگر جبکہ کوئی عذر ہو۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 8، صفحہ 279، مطبوعہ کوئٹہ)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”مرد کو ہتھیلی یا تلوے بلکہ صرف ناخنوں ہی میں مہندی لگانی حرام ہے کہ عورتوں سے تشبّہ ہے۔ شرعۃ الاسلام ومرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے: ’’الحناء سنّۃ للنساء ویکرہ لغیرھن من الرجال الا ان یکون لعذر ۔۔الخ“ ترجمہ: عورتوں کے لئے مہندی لگانا سنت ہے لیکن مردوں کے لئے مکروہ ہے، مگر جبکہ کوئی عذر ہو ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 542، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مہندی کے استعمال میں علاج کی نیت کے ساتھ مزید چند امور کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ جن کی تفصیل بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اما ثنیا العذر: فاقول: ھذا اذا لم یقم شیئ مقامہ ولاصلح ترکیبہ مع شیئ ینفی لونہ واستعمل لاعلی وجہ تقع بہ الزینۃ‘‘ ترجمہ: رہا عذر کا استثناء کرنا، تو اس کے متعلق میں یہ کہتا ہوں کہ: (عذر اس وقت تسلیم کیا جائے گا کہ) جب مہندی کے قائم مقام کوئی دوسری چیز نہ ہو اور مہندی کسی ایسی دوسری چیز کے ساتھ مخلوط نہ ہو سکے جو اس کے رنگ کو زائل کر دے اور مہندی استعمال میں بھی محض ضرورت کی بنا پر بطور دوا اور علاج ہو، زیب و زینت اور آرائش مقصود نہ ہو۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 543، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7140
تاریخ اجراء: 20 جمادی الثانیہ 1444ھ/13 جنوری 2023ء