بیجہ یا بیجا دینے کی شرط پر باغ ٹھیکے پر دینا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بیجہ یا بیجا دینے کی شرط پر زمین ٹھیکے پر دینا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ فی زمانہ آموں کے باغات ٹھیکے پر دیے جاتے ہیں اور مالک کی طرف سے شرط لگائی جاتی ہے کہ اگر باغ کا ٹھیکہ مثلا چار لاکھ کا ہو، تو ٹھیکے پر لینے والا شخص باغ کے مالک کو آموں کی دس پیٹیاں دے گا اور اگر آٹھ لاکھ کا ہو، تو بیس پیٹیاں دے گا اسی طرح ٹھیکے کے اعتبار سے پیٹیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے، اس کو وہ "بیجہ دینا" کہتے ہیں۔ ہر مالک ہی اس شرط کے ساتھ باغ ٹھیکے پر دیتا ہے اس شرط کے بغیر کوئی بھی مالک باغ ٹھیکے پر نہیں دیتا، ہزاروں میں سے شاید ہی کوئی ایک آدھ ایسا ہوگا جو یہ شرط نہ لگاتا ہو۔ اس شرط لگانے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کو اپنے کھانے کے لئے الگ سے آم نہیں خریدنے پڑتے، اپنے باغات کے ہی اچھے اور صاف ستھرے آم مل جاتے ہیں، اسی طرح رشتہ داروں اور دوستوں کو بھی اسی میں سے دے دیتے ہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس شرط کے ساتھ باغات ٹھیکے پر لینا کیسا؟
نوٹ: سائل کے علاوہ ہم نے مزید باغات کے مالکوں سے معلومات لی ہیں، سب کا بیان یہی ہے کہ اس شرط کے ساتھ ہی باغات ٹھیکے پر دیے جاتے ہیں۔
جواب
خرید و فروخت میں عقد کے تقاضے کے خلاف ایسی شرط لگانا جس میں عاقدین میں سے کسی ایک یا قابلِ استحقاق مبیع کا فائدہ ہو اور اس پر عرف جاری نہ ہو اور نہ ہی شریعت میں اس کا جواز وارد ہو، تو ایسی شرط عقد کو فاسد کر دیتی ہے، لیکن اس شرط پر عرف و تعامل جاری ہو جائے، تو وہ شرط عقد کو فاسد نہیں کرتی اور عقد درست قرار پاتا ہے۔
اس تفصیل کے مطابق آموں کے باغات ٹھیکے پر دینے میں مالک کی طرف سے بیجہ دینے کی شرط لگانا عقد کے تقاضے کے خلاف ایسی شرط ہے جس میں اس کا فائدہ ہے اور شریعت میں اس کا جواز بھی وارد نہیں ہے، مگر ہم نے جتنی معلومات لی ہیں اور جو ہمارا ذاتی مشاہدہ ہے، اس کے مطابق اس شرط کے ساتھ خرید و فروخت پر عرف و تعامل متحقق ہو چکا ہے کہ اس کے بغیر باغات کو ٹھیکے پر دینے کا کام نہ ہونے کے برابر ہے، پاکستان کے اکثر بلاد میں تقریبا تمام مالکان کی طرف سے ہی یہ شرط لگائی جاتی ہے، اس کے بغیر خرید و فروخت کا تصور ہی نہیں ہے، لہذاعرف جاری ہونے کی وجہ سے یہ شرط عقد کو فاسد کرنے والی نہیں ہوگی اور اس شرط کے ساتھ باغات ٹھیکہ پر لینا، دینا جائز ہے۔
ہدایہ میں ہے: "کل شرط لایقتضیہ العقد وفیہ منفعۃ لاحد المتعاقدین او للمعقود علیہ وھو من اھل الاستحقاق یفسدہ الا ان یکون متعارفا لان العرف قاض علی القیاس، ملخصا" ہر وہ شرط جس کا عقد تقاضا نہ کرتا ہو اور اس میں عاقدین میں سےکسی ایک یا مبیع اگر وہ فائدہ کی اہل ہے، کا فائدہ ہو، تو وہ بیع کو فاسد کردے گی، بشرطیکہ عرف میں وہ شرط معروف نہ ہو، کیونکہ عرف قیاس پر فیصل ہوتا ہے۔ (ھدایہ مع البنایہ، ج10، ص282، 281، مطبوعہ ملتان )
تنویر الابصار و در مختار میں ہے: "الاصل الجامع فی فساد العقد بسبب شرط (لایقتضیہ العقد ولا یلائمہ او فیہ نفع لاحدھما او لمبیع من اھل الاستحقاق ولم یجر العرف بہ ولم یرد الشرع بجوازہ) اما لو جری العرف بہ کبیع نعل مع شرط تشریکہ او ورد الشرع بہ کخیار شرط، فلا فساد" کسی شرط کے سبب عقد کے فاسد ہونے کا جامع اصول یہ ہے کہ اس شرط کا عقد تقاضا نہ کرتا ہو اور نہ ہی وہ عقد کے مناسب ہو اور اس میں فریقین میں سے کسی ایک یاقابل ِاستحقاق مبیع کا فائدہ ہو۔ اور اس شرط پر عرف قائم نہ ہو اور نہ ہی شریعت نے اس کے جواز کو بیان کیا ہو، بہرحال اگر اس کے جواز پر عرف جاری ہو، جیسے جوتےکو تسمہ لگانے کی شرط کے ساتھ بیع کرنا یا اس شرط کے جواز پر شریعت وارد ہو، جیسا کہ خیار ِشرط، تو (بیع) فاسد نہیں ہوگی۔ (تنویر الابصار ودر مختار مع رد المحتار، ج 07، ص 284، 283، مطبوعہ کوئٹہ)
جس شرط سے بیع فاسد ہوتی ہے، اس پر عرف نہ ہونا شرط ہے۔ جیسا کہ امام اہلسنت سیدی الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: "اور بیع میں شرط افسادبا شرط عدمِ تعارفِ شرط ہے ۔" (فتاویٰ رضویہ، ج 19، ص 578، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا سرفراز عطاری مدنی
فتوی نمبر: Mul-1540
تاریخ اجراء: 27 جمادی الاول 1447ھ/19 نومبر 2025ء