logo logo
AI Search

لڑائی والا مرغا بیچنے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مرغوں کی لڑائیاں کروانے والے شخص کو لڑائی والا مرغا بیچنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کوئی شخص لڑائی کے لئے تربیت یافتہ مرغے ایسے شخص کو بیچتا ہے ، جس کے بارے میں معلوم ہے کہ یہ اس مرغے کو لڑائی میں استعمال کرے گا، تو کیا یہ اس کا بیچنا جائز ہے؟

جواب

مرغوں کو لڑوانا، ناجائز وحرام ہے ۔اور ایسے مرغے اس شخص کو بیچنا جس کے بارے میں معلوم ہو کہ یہ لڑوانے کے لئے ہی خرید رہا ہے، ناجائز ہے کیونکہ اس صورت میں گناہ کے کام میں معاونت ہوگی اور گناہ کے کام میں مدد کرنا، جائز نہیں۔

سنن ترمذی میں ہے: ”عن ابن عباس قال: نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم عن التحريش بين البهائم“ ترجمہ:حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، آپ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جانوروں کو آپس میں لڑوانے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن الترمذی، جلد1، صفحہ 433، مطبوعہ لاہور)

اِس حدیث مبارک کی شرح میں علامہ علی قاری حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ(سالِ وفات: 1014ھ) لکھتے ہیں: ”أي: عن الإغراء بينها بأن ينطح بعضها بعضا أو يدوس أو يقتل فی النهاية: هو الإغراء وتمييج بعضها على بعض كما يفعل بين الجمال والكباش والديوك وغيرها “ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جانوروں کو ایسے انداز میں ابھارنے سے منع فرمایا کہ وہ ایک دوسرے کو سینگ ماریں، روندیں یا مار ڈالیں۔ نہایہ میں ہے کہ ”تحریش“ سے مراد جانور کو لڑائی پر ابھارنا اور اُن کا ایک دوسرے کو مارنا ہے، جیسا کہ اونٹوں، مینڈھوں اور مرغوں وغیرہ میں لڑائی کروائی جاتی ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد7، صفحہ701، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

اِس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سالِ وفات:1391ھ) لکھتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ رحم فرمائے! آج مسلمانوں میں مرغ لڑانا،کتے لڑانا، اونٹ،بیل لڑانے کا بہت شوق ہے،یہ حرام،سخت حرام ہےکہ اس میں بلا وجہ جانوروں کو ایذا رسانی ہے،اپنا وقت ضائع کرنا۔بعض جگہ مال کی شرط پر جانور لڑائے جاتے ہیں،یہ جوا بھی ہے،حرام درحرام ہے ۔“ (مراٰة المناجیح ، جلد5، صفحہ 659، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ گجرات)

اہلِ فتنہ کو ہتھیار بیچنے کے متعلق ہدایہ میں ہے: ”(و یکرہ بیع السلاح فی ایام الفتنۃ) معناہ ممن یعرف انہ من اھل الفتنۃ لانہ تسبب الی المعصیۃ و ان کان لا یعرف انہ من اھل الفتنۃ لا باس بذلک لانہ یحتمل ان لا یستعملہ فی الفتنۃ فلا یکرہ بالشک“ ترجمہ: فتنہ و فساد کے ایام میں ہتھیار فروخت کرنا مکروہ ہے، اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ جو بیچنے والا جانتا ہو کہ خریدار فتنہ و فساد مچانے والے ہیں تو مکروہ ہے، کیونکہ انہیں بیچنا گناہ کا سبب بننا ہے اور اگر معلوم نہ ہو کہ خریدار فتنہ و فساد کرنے والے ہیں تو انہیں فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ احتمال ہے کہ وہ فتنہ و فساد میں استعمال نہ کریں، پس شک کی بنا پر بیچنا مکروہ نہیں ہوگا۔( ھدایہ مع فتح القدیر، جلد 10، صفحہ 70، مطبوعہ کوئٹہ )

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2568

تاریخ اجرا: 04جمادی الاولٰی1447ھ / 27 اکتوبر 2025ء