logo logo
AI Search

نوٹوں کے بدلے سکے ادھار بیچنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کرنسی نوٹوں کے عوض سکوں کی نفع پر ادھار خرید و فروخت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نوٹ کے بدلے نوٹ کی بیع نفع کے ساتھ نقد جائز ہے، ادھار جائز نہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اگر سکوں کو نوٹ کے بدلے ادھار بیچا جائے، تو کیا یہ خرید و فروخت جائز ہے یا نہیں؟ سود کے زمرے میں تو نہیں آتا۔

جواب

خرید و فروخت میں سود ہونے نہ ہونے کے حوالہ سے قانون شرعی یہ ہے کہ جب دو چیزیں جنس و قدر (وزن، کیل) میں متفق ہوں یعنی یہ دونوں وصف (جنس و قدر) پائے جائیں تو کمی بیشی و ادھار دونوں سودو حرام ہوتے ہیں اور جب دونوں وصف نہ پائے جائیں تو کمی و بیشی و ادھار دونوں جائز ہوتے ہیں اور جب ایک وصف یعنی صرف جنس یاصرف قدر پایا جائے اور دوسرا وصف نہ پایا جائے تو کمی بیشی جائز ہوتی ہے اور ادھار سودو حرام ہوتا ہے۔

اس قانونِ شرعی کے مطابق نوٹ اور سِکّوں میں دونوں وصف نہیں پائے جاتے کہ ایک تو یہ ہم جنس نہیں ہیں کیونکہ نوٹ کی اصل کاغذ ہے، جبکہ سِکّوں کی اصل مختلف دھاتیں ہیں، دوسرا ہمارے عرف عام میں نوٹ اور سِکّوں کے عددی یعنی گِن کر دی جانے والی چیز ہونے کی وجہ سے ان میں دوسرا وصف قدر(وزن و کیل) نہیں پایا جاتا، لہٰذا نوٹ کے بدلے سِکّوں کی خریدو فروخت جس طرح نقد یعنی دونوں جانب سے اسی مجلس میں قبضہ ہوجائے، جائز ہے، اسی طرح ادھار یعنی ایک جانب سے قبضہ ہو دوسری جانب سے نہ ہو، یہ بھی جائز ہے، البتہ دونوں جانب سے قبضہ نہ ہو تو ناجائز ہے کہ اس طرح یہ بیع الکالی بالکالی یعنی ادھار کی ادھار کے ساتھ بیع کی صورت ہے اور ازروئے حدیث و فقہ ادھار کی ادھار کے ساتھ بیع ناجائز و حرام ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ جون 2026ء