logo logo
AI Search

ناپاک گندم پاک کرنے کا طریقہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

گندم ناپاک ہو جائے تو پاک کیسے کریں ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے گندم گٹوؤں (بوروں) کی صورت میں محفوظ کر کے رکھی تھی، لیکن ان میں سے ایک گٹو پر بلی نے پیشاب کر دیا، لیکن گندم پھولی نہیں ہے۔ اب مجھے یہ معلوم نہیں ہو رہا کہ اس گٹو میں ناپاک گندم پاک کیسے ہو؟ اسے پاک کرنے کا کیا طریقہ اپناؤں؟ کیا دھو کر استعمال کی جا سکتی ہے یا ضائع کرنی پڑے گی؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں گندم کے بورے میں جتنی گندم ناپاک ہوئی ہے، اسے الگ کر کے تین مرتبہ پاک پانی سے دھویا جائے اور ہر بار خشک کر لیا جائے، تو وہ پاک ہو جائے گی، بشرطیکہ نجاست کے اوصاف (رنگ، بو، ذائقہ) باقی نہ رہیں۔ اسی طرح اگر ناپاک گندم کو بہتے پانی میں اتنی دیر رکھا جائے کہ غالب گمان ہو جائے کہ نجاست بہہ گئی ہے، تو وہ بھی پاک ہو جائے گی۔

جزئیات بالترتیب درج ذیل ہیں:

مفتیٰ بہ مذہب پر ناپاک گندم تین مرتبہ دھونے اور خشک کرنے سے پاک ہو جائے گی۔ جیسے درر الحکام شرح غرر الاحکام، بدائع الصنائع اور فتاوی شامی میں ہے، (والنظم للاول): ”‌اعلم ‌أن ‌ما ‌لا ‌ينعصر إذا تنجس لا يطهر عند محمد أبدا لأن النجس إنما يزول بالعصر ولم يوجد. وعند أبي يوسف يطهر بغسله وتجفيفه ثلاث مرات بحيث لا يبقى له لون ولا رائحة وبه يفتى‘‘ ترجمہ: تُو جان لے!بے شک وہ چیزیں جو نچوڑنے کے قابل نہیں، جب ناپاک ہو جائیں امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک کبھی بھی پاک نہیں ہوں گی، کیونکہ نجاست زائل ہوتی ہے، نچوڑنے سے اور نچوڑنا یہاں پایا نہیں گیا۔ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ناپاک چیز تین مرتبہ دھونے اور خشک کرنے سے پاک ہو جاتی ہے، جبکہ نجاست کے اوصاف میں سے کوئی وصف رنگ، بو اور ذائقہ باقی نہ رہے اور یہی مفتیٰ بہ ہے۔ (درر الحكام شرح غرر الأحكام، جلد 1، صفحہ 84، مطبوعہ افغانستان)

شراب وغیرہ نجاست سے ناپاک گندم اگر پھولی نہ ہو، تو مذکورہ بالا طریقہ کار سے پاک ہو جاتی ہے۔ فتاوی ہندیہ اور چند دیگر کتبِ فقہیہ میں بھی مذکور ہے: ”وإن لم تنتفخ تطهر بالغسل ثلاثا والتجفيف في كل مرة ويشترط أن لا يوجد طعم الخمر ولا ريحها. هكذا في المحيط“ یعنی اگر گندم پھولی نہ ہو، تو اسے تین مرتبہ دھو کر، ہر مرتبہ خشک کرنے سے پاک ہو جائے گی، بشرطیکہ اس میں (نجاست) شراب کا نہ ذائقہ باقی رہے اور نہ ہی اس کی بو۔ اسی طرح ”المحیط“ میں ہے۔ (الفتاوى الھندیہ، جلد 01، صفحہ 41، دار الفکر، بیروت)

ناپاک چیز کو بہتے پانی میں اتنی دیر رکھا جائے کہ غالب گمان ہو جائے کہ نجاست ختم ہو گئی ہے، تو وہ پاک ہو جاتی ہے۔ فتاوی شامی، مراقی الفلاح اور حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے۔ (واللفظ للاخر): ’’اشتراط الغسل والعصر ثلاثا انما ھو اذا غمسہ فی إجانۃ، اما اذا غمسہ فی ماء جار حتی جری علیہ الماء ۔۔۔فقد طھر مطلقاً بلا اشتراط عصر وتجفیف، والمعتبر فیہ غلبۃ الظن ھو الصحیح“ ترجمہ: تین مرتبہ دھونے اور نچوڑنے کی شرط اس وقت ہے، جب وہ ناپاک چیز کو کسی ٹب میں دھو رہا ہو، بہرحال جب ناپاک چیز کو بہتے ہوئے پانی میں رکھ دیا، یہاں تک کہ پانی اس پر جاری ہو گیا، نچوڑنے اور سکھانے کی شرط کے بغیر مطلقا ً وہ شے پاک ہوگئی، راجح قول کے مطابق اس میں ظن غالب کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 126، مطبوعہ پشاور، ملتقطاً)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: NRL-0510
تاریخ اجراء: 6 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ/23 اپریل 2026ء