
کیا سامع کے علاوہ کوئی اور شخص لقمہ نہیں دے سکتا ؟
سوال: ہماری مسجد میں انتظامیہ کی جانب سے یہ لکھ کر لگایا ہے کہ سامع کے علاوہ کسی فرد کو لقمہ دینے کی اجازت نہیں ہے،دیگر مساجد میں بھی اس طرح کا رجحان دیکھا ہےکہ کسی اَور کے لقمہ دینے پر سختی برتی جاتی ہے،بعض اوقات حافظ صاحب غلطی کر رہے ہوتے ہیں اور سامع بتا نہیں پا رہا ہوتا،تو کیا ایسی صورت میں بھی کوئی دوسرا فرد لقمہ نہیں دے سکتا؟ حالانکہ اس کو معلوم ہو کہ حافظ صاحب غلطی کر رہے ہیں اور وہ بتا بھی سکتا ہو،رہنمائی فرمائیے شریعت اس بارے میں کیا رہنمائی کرتی ہے۔
عمرہ کر کے منی، مزدلفہ و عرفات جانا اور بغیر احرام واپس مکہ مکرمہ آنا
جواب: پر چلے گئے، تو واپسی پر احرام باندھنا لازم نہیں بلکہ اگر حدودِ حرم سے بھی باہر نکل گئےجیسے میدانِ عرفات میں چلے گئے، لیکن میقات سے باہر نہ گئے، تو بھی...
عورت کے لیے گلے اور کان میں سونے کا زیور پہننا منع ہے؟
جواب: پر حرام اور ان کی عورتوں کے لئے حلال ہے۔ (مسند احمد بن حنبل،ج32،ص276،مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ) اوراعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:’...
نبی کریم کونسا عمامہ شریف پینتے اور عمامہ کی لمبائی کیا تھی؟
جواب: پر سجا ہوتا تھا۔ حرقانی خالص سیاہ رنگ نہیں ہوتا بلکہ کسی چیز کو آگ سے جلادینے کے بعد جو سیاہی مائل رنگ ظاہر ہوتا ہے، یہ عمامہ شریف بھی اسی رنگ کا تھا...
گھر خریدنے کے لئے رکھی ہوئی رقم پر زکوۃ کا حکم
سوال: میرے پاس دو2 تولہ زیور اور ٹوٹل 18 لاکھ روپے ہیں ،جس میں مجھے 15لاکھ روپے وراثت میں ملے ہیں، وراثت والے 15 لاکھ روپے میں نے گھر خریدنے کےلئے رکھے ہوئے ہیں کہ میرا گھر بہت چھوٹا ہے،بچوں کی شادیاں کرنی ہیں۔اب مجھ پر زکوۃ فرض ہونے سے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب: پر جہاں کہیں نَجاست ہو اس کو دور کرے پھر (۵) نماز کا سا وُضو کرے مگر پاؤں نہ دھوئے،ہاں اگر چوکی یا تختے یا پتھر پر نہائے تو پاؤں بھی دھولے پھر ...
اقامت کی نیت میں پندرہ دن کی تعیین کی وجہ
جواب: پر ترجیح دی، وہ یوں کہ ہمیں اس کی ایک تائید عورت کے کم از کم پاکی کے ایام یعنی طہر کے حکم سے ملی۔ ان میں علتِ جامع، رخصت کی وجہ سے جو بات ذمے سے ساقط ...
مچھلی پر فاتحہ دلانا کیسا ہے ؟
سوال: مچھلی پر فاتحہ دلائی جاسکتی ہے یا نہیں ؟
کیا اونٹ میں قربانی کے 10 حصے ہو سکتے ہیں؟ نیزایک حدیثِ پاک کی تشریح
سوال: ایک اونٹ کی قربانی میں کتنے لوگ حصہ شامل کر سکتے ہیں؟بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اونٹ کی قربانی میں دس لوگ حصہ شامل کر سکتے ہیں اور پھر اپنی تائید میں یہ روایت پیش کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے حوالے سے ترمذی شریف میں مروی ہے :” كنا مع النبي صلى اللہ عليه وسلم في سفر، فحضر الأضحى، فاشتركنا في البقرة سبعة، وفي الجزور عشرة “ترجمہ: ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے،اسی حالت میں عید الاضحیٰ آ گئی، تو ہم نے گائے سات افراد کی طرف سے، جبکہ اونٹ دس افراد کی طرف سے قربان کیا ۔(سنن الترمذی،جلد2،صفحہ 241،حدیث نمبر905،دار الغرب الاسلامی،بیروت) اسی طرح عوام کے ذہنوں میں اس طور پر تشویش پیدا کی جاتی ہے کہ جب اونٹ کا گوشت گائے سے زیادہ ہے، تو شرکاء کے اعتبارسے بھی یہ سات کے بجائے دس افراد کےلیے کافی ہونا چاہیے ۔