logo logo
AI Search

گھر کی خریداری کے لئے رکھی رقم پر زکوۃ فرض ہوگی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

گھر خریدنے کے لئے رکھی ہوئی رقم پر زکوۃ کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرے پاس دو 2 تولہ زیور اور ٹوٹل 18 لاکھ روپے ہیں، جس میں مجھے 15 لاکھ روپے وراثت میں ملے ہیں، وراثت والے 15 لاکھ روپے میں نے گھر خریدنے کے لئے رکھے ہوئے ہیں کہ میرا گھر بہت چھوٹا ہے، بچوں کی شادیاں کرنی ہیں۔ اب مجھ پر زکوۃ فرض ہونے سے متعلق کیا حکم ہے؟

جواب

گھر خریدنے کیلئے رکھی گئی رقم  حاجت اصلیہ میں شمار نہیں ہوگی، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر آپ پر قرض ہو تو اُسے مائنس کرنے کے بعد ،حاجت اصلیہ سے زائد زیور اور تمام رقم پر جب سال گزر جائے گا، تو زکوۃ فرض ہوگی۔

تنویر الابصار میں ہے:

وسببہ ملک نصاب حولی تام  فارغ عن دین لہ مطالب من جھۃ العباد وفارغ عن حاجتۃ الاصلیۃ

ترجمہ: زکوۃ فرض ہونے کا سبب نصابِ حولی (یعنی وہ نصاب جس پر سال گزرجائے) کا  مکمل طور پر مالک ہونا ہے جو ایسے دین سے، جس کا لوگوں کی طرف سے مطالبہ ہو اور حاجت اصلیہ سے زائد ہو۔ (تنویر الابصار، جلد 3، صفحہ 208-212، دار المعرفہ، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے: جس دن وُہ مالکِ نصاب ہُوا تھا جب اُس پر سال پُورا گزرے گا اُس وقت جتنا سونا چاندی یا تجارت کا مال میز کرسی وغیرہ جو کچھ بھی ہو، بقدر نصاب اس کے پاس تمام حاجات اصلیہ سے فارغ موجود ہوگا اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی، روزمرہ کے خرچ میں جو خرچ ہوگیا ہوگیا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 186، رضافاؤنڈیشن، لاھور)

مفتئ اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی وقار الدین قادری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: اگر چاندی اور سونا دونوں یا سونے کے ساتھ روپیہ پیسہ، مالِ تجارت بھی ہے، اسی طرح صرف چاندی کے ساتھ روپیہ پیسہ اور مالِ تجارت بھی ہے، تو وزن کا اعتبار نہ ہوگا، اب قیمت کا اعتبار ہوگا، لہٰذا سونا چاندی، نقد روپیہ اور مالِ تجارت سب کو ملا کر، اگر ان کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائے، تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔ (وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 384 تا 385، مطبوعہ بزم وقار الدین)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-2467
تاریخ اجراء: 09 شعبان المعظم 1445 ھ/20 فروری 2024 ء