بیوی کا شوہر کو زکاۃ دینا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا بیوی اپنے شوہر کو زکوٰۃ دے سکتی ہے ؟ ایک حدیث پاک کی شرح
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسئلہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو زکوۃ نہیں دے سکتے، لیکن بخاری شریف کی ایک حدیثِ پاک میں ہے: حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو فرمایا کہ وہ اپنے شوہر کو زکوۃ دیں (حدیث: 1462)، تو براہ کرم اس حوالہ سے رہنمائی کیجئے؟ سائل: راجہ اویس (راولپنڈی)
جواب
سائل نے اپنے سوال میں ذکر کیا ہے کہ ’’حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو زکوۃ دینے کا حکم ہوا‘‘، جبکہ حدیث پاک میں زکوٰۃ کا لفظ مذکور نہیں، بلکہ ذکر کردہ بخاری شریف کی روایت اور دیگر احادیث میں لفظِ صدقہ وارد ہوا ہے۔ تفصیل نیچے آرہی ہے۔
ابتدائی طور پر اجمالی جواب یہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو زکوۃ نہیں دے سکتے، دیں گے تو ادا نہیں ہو گی اور حدیث پاک میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو صدقہ دینے کی ترغیب دی گئی، اس سے مراد نفلی صدقہ ہے، نہ کہ زکوۃ وغیرہ صدقہ واجبہ اور نفلی صدقہ شوہر کو دے سکتے ہیں۔
مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو زکوۃ نہیں دے سکتا، اس پر ائمہ ثلاثہ (امام اعظم، امام ابو یوسف اور امام محمد علیہم الرحمہ) کا اتفاق ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہمیں زکوۃ دینے کا حکم ہے اور دینا / ادا کرنا اس وقت پایا جائے گا، جب زکوۃ والے مال سے اپنا نفع بالکل جدا کر لیا جائے، جبکہ بیوی کا مال کامل طور پر شوہر سے الگ نہیں ہوتا، میاں بیوی کا مال اور منافع عام طور پر مشترک ہوتے ہیں، تو بیوی کو دینا گویا اپنے آپ کو دینا کہلائے گا، لہذا یہ جائز نہیں۔ یونہی بیوی بھی شوہر کو زکوۃ نہیں دے سکتی۔ یہ فقہ حنفی کا مفتیٰ بہ قول ہے۔
قرآن کریم میں ہے: ﴿وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ﴾ ترجمہ: اور زکوۃ ادا کرو۔ (پارہ 1، سورۃ البقرہ، آیت 43)
تنویر الابصار اور در مختار میں زکوۃ کی تعریف کے تحت ہے: ”(مع قطع المنفعۃ عن الملک من کل وجہ) فلا یدفع لاصلہ وفرعہ۔۔۔الخ“ ترجمہ: (زکوۃ کی ادائیگی میں ضروری ہے کہ) ملکیت سے ہر طرح منفعت جدا کر لی جائے، لہذا اپنے اصول (آباؤ اجداد) اور اپنی فروع (اولاد) کو زکوۃ نہیں دے گا۔
"فلا یدفع لاصلہ" کے تحت رد المحتار میں ہے: ”وکذا لزوجتہ وزوجھا وعبدہ ومکاتبہ، لانہ بالدفع الیھم لم تنقطع المنفعۃ عن المملک: ای المزکی من کل وجہ“ یعنی اسی طرح اپنی بیوی کو، اپنے شوہر کو، اپنے غلام اور اپنے مکاتب غلام کو زکوۃ نہیں دے گا، کیونکہ ان افراد کو زکوۃ دینے میں، زکوۃ دینے والے کی ملکیت سے مکمل طور پر منفعت منقطع نہیں ہوتی۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الزکاۃ، جلد 3، صفحہ 206، مطبوعہ پشاور)
مبسوط سرخسی میں ہے: ’’لا يصرف إلى زوجته، لان الايتاء لا يتم فمال الزوجة من وجه لزوجها‘‘ ترجمہ: بیوی کو زکوۃ نہیں دے سکتے، کیونکہ دینا کامل طور پر نہیں پایا جائے گا، کہ بیوی کا مال من وجہ شوہر کا ہوتا ہے۔ (مبسوط سرخسی، کتاب الزکوۃ، جلد 3، صفحہ 11، مطبوعہ بیروت)
فتح القدیر میں ہے: ”(قوله ولا إلى امرأته للاشتراك في المنافع) قال الله تعالى {ووجدك عائلا فأغنى} أي بمال خديجة. وإنما كان منها إدخاله عليه الصلاة والسلام في المنفعة على وجه الإباحة والتمليك أحيانا فكان الدافع إلى هؤلاء كالدافع لنفسه من وجه إذ كان ذلك الاشتراك ثابتا “ ترجمہ: شوہر بیوی کو زکوۃ نہیں دے سکتا کہ ان کے منافع مشترک ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اور اس نے تمہیں حاجت مند پایا تو غنی کردیا، یعنی حضرت خدیجہ کے مال سے اور بلا شبہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے مال کے منافع میں بطور اباحت اور کبھی بطور تملیک داخل کر رکھا تھا، تو منافع میں اشتراک ثابت ہونے کی وجہ سے بیوی کو زکوۃ دینے والا گویا اپنے آپ کو زکوۃ دینے والا کہلائے گا۔ (فتح القدیر، کتاب الزکوۃ، جلد 2، صفحہ 270، دار الفکر، بیروت)
محیط برہانی میں ہے: ’’ولا يعطي زوجته بلا خلاف من أصحابنا؛ لأن منافع الأموال مشتركة، فلا ينقطع حق المؤدى عن المؤدى، وكذا لا تعطي المرأة زوجها عند أبي حنيفة لما قلنا، وعندهما تعطيه‘‘ ترجمہ: ائمہ احناف کے نزدیک بلا اختلاف آدمی اپنی بیوی کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا، کیونکہ مال کے منافع آپس میں مشترک ہوتے ہیں، تو دینے والے کا حق وصول کرنے والے سے منقطع نہیں ہو گا، اسی طرح عورت بھی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اپنے شوہر کو زکوٰۃ نہیں دے سکتی، وجہ وہی ہے، جو ہم نے بیان کی، البتہ صاحبین علیہما الرحمہ نے نزدیک عورت اپنے شوہر کو دے سکتی ہے۔ (محیط برھانی، کتاب الزکوۃ، جلد 2، صفحہ 282، مطبوعہ بیروت)
صاحبین علیہما الرحمہ کی دلیل حضرت زینب زوجہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما والی حدیث ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انہیں شوہر پر صدقہ کرنے کی ترغیب ارشاد فرمائی۔جس کی طرف سوال میں اشارہ کیا گیا ہے۔ مزید کلام سے قبل اختصار کے ساتھ اس حدیث کا عربی متن مع ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کے موقع پر مردوں اور عورتوں کو صدقہ دینے کی ترغیب ارشاد فرمائی، جب اپنے گھر واپس لوٹے، تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا حاضر ہو کر سوال کیا۔ بخاری شریف میں ہے: ’’جاءت زينب امراة ابن مسعود تستاذن عليه فقيل: يا رسول الله! هذه زينب، فقال: اي الزيانب ؟ فقيل: امراة ابن مسعود، قال: نعم! ائذنوا لها، فاذن لها قالت: يا نبي الله! انك امرت اليوم بالصدقة وكان عندي حلي لي، فاردت ان اتصدق به، فزعم ابن مسعود: انه وولده احق من تصدقت به عليهم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «صدق ابن مسعود، زوجك وولدك احق من تصدقت به عليهم‘‘
ترجمہ: حضرت زینب زوجہ ابن مسعود (رضی اللہ عنہما) حاضر ہوئی اور اجازت طلب کی، عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ! یہ زینب (اجازت طلب کر رہی) ہیں، فرمایا: کونسی زینب؟ عرض کی گئی: زوجہ ابن مسعود، فرمایا: ہاں! اسے اجازت دیدو، پس اجازت دیدی گئی، حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں: یا نبی اللہ! آج آپ نے صدقہ دینے کا حکم ارشاد فرمایا، میرے پاس میرا زیور ہے، میں چاہتی ہوں کہ اسے صدقہ کر دوں، تو (میرے شوہر) حضرت ابن مسعود کا خیال ہے کہ وہ خود اور ان کے اولاد اس صدقہ کی زیادہ حقدار ہیں، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن مسعود نے سچ کہا، جن کو صدقہ دینا ہے، ان کے مقابلہ میں تیرا شوہراور تیری اولاد زیادہ حقدار ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب الزکوۃ، باب الزکاۃ علی الاقارب، جلد 1، صفحہ 197، مطبوعہ کراچی)
حدیث پاک کا محمل:
حدیث پاک میں لفظ صدقہ وارد ہوا ہے اور یہاں صدقہ سے مراد "نفلی صدقہ" ہے، صدقہ واجبہ مثلاً زکوۃ وغیرہ نہیں، یعنی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو اپنے شوہر اور بچوں کو نفلی صدقہ دینے کا حکم ارشاد فرمایا تھا۔ علماء و محدثین نے اس کی صراحت فرمائی ہے۔ جیسا کہ اما م اجل امام ابو جعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’ان تلك الصدقة التي حض عليها رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك الحديث انما كانت من غير الزكاة ‘‘ ترجمہ: اس حدیث پاک میں عورتوں کو صدقہ دینے کی ترغیب دلائی گئی، یہ زکوۃ کے علاوہ صدقہ کی ترغیب تھی۔ (شرح معانی الآثار، کتاب الزکاۃ، جلد 1، صفحہ 310، مطبوعہ لاہور)
محدث کبیر علامہ ملا علی القاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’’ان ذلک کان فی صدقۃ نافلۃ، لانھا ھی التی کان علیہ الصلاۃ والسلام یتخول بالموعظۃ والحث علیھا‘‘ ترجمہ: بے شک یہ (حدیث) صدقہ نافلہ کے متعلق ہے، کیونکہ اسی پر حضور علیہ السلام نے وعظ و نصیحت کے ساتھ اختیار دیا اور اس پر ابھارا۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الزکاۃ، باب افضل الصدقۃ، جلد 4، صفحہ 1352، مطبوعہ بیروت)
حدیث میں نفلی صدقہ مراد ہونے کی وجہ:
(1) شرعی حکم کے مطابق والدین اپنی اولاد کو زکوۃ نہیں دے سکتے اور وجہ وہی ہے کہ ان کے منافع بھی مشترک ہوتے ہیں، بلکہ (حکمِ سعادت کے طور پر تو) اولاد کے مال پر والدین کا حق احادیث طیبہ میں بیان کیا گیا ہے (اور یہ عمومی صورتحال میں ہے، ورنہ بعض صورتوں میں والدین اولا د کے مال پر شرعی حق بھی رکھتے ہیں)، تو اولاد کو زکوۃ دینے میں مالِ زکوۃ سے منفعت مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی، لہذا اولاد کو زکوۃ دینا جائز نہیں اور اس پر اتفاق ہے، جبکہ مذکورہ روایت کے الفاظ سے ظاہر، بلکہ بعض روایات میں صراحت ہے کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے شوہر کے ساتھ اپنی اولاد کو دینے کے بارے میں بھی سوال کیا کہ کیا ان پر مال خرچ کر سکتی ہوں، تو اس سے واضح ہوا کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا یہ استفسار اور اولاد و شوہر کو صدقہ دینے کی ترغیب نفلی صدقہ کے متعلق تھی، ورنہ اولاد کو زکوۃ دینے سے منع کر دیا جاتا۔
فتح القدیر میں ہے: ”(ولا يدفع المزكي زكاته إلى أبيه وجده وإن علا، ولا إلى ولده وولد ولده وإن سفل) لأن منافع الأملاك بينهم متصلة فلا يتحقق التمليك على الكمال“ ترجمہ: زکوۃ دینے والا اپنے والد، دادا کو زکوۃ نہیں دے سکتا، اگرچہ اوپر تک ہوں، اور نہ اولاد کو اور اولاد کی اولاد کو، خواہ نیچے تک ہوں، کیونکہ ان کے اموال کے منافع باہم متصل ہوتے ہیں، تو ان کو دینے میں تملیک کامل طور پر متحقق نہیں ہو گی۔ (فتح القدیر، کتاب الزکوۃ، جلد 2، صفحہ 270، دار الفکر، بیروت)
امام اجل امام ابو جعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کے مختلف الفاظ ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:۔۔۔۔ وفي حديث ريطة هذا: كنت انفق من ذلك على عبد الله وعلى ولده مني۔ وقد اجمعوا على انه لا يجوز للمراة ان تنفق على ولدها من زكاتها، فلما كان ما انفقت على ولدها ليس من الزكاة، فكذلك ما انفقت على زوجها ليس هو ايضا من الزكاة‘‘ ترجمہ: ۔۔۔۔حضرت ریطہ (جو حضرت ابن مسعود کی زوجہ حضرت زینب کاہی نام ہے، ان) کی روایت میں ہے کہ: میں عبد اللہ اور ان کی اولاد جو مجھ سے ہے، ان پر اپنی آمدنی خرچ کرتی ہوں، جبکہ اس بات پر اجماع ہے کہ عورت کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی زکوۃ اپنی اولاد پر خرچ کرے، تو جب وہ اپنی اولاد پر زکوۃ خرچ نہیں کرتی تھیں، تو اسی طرح وہ اپنے شوہر پر جو خرچ کرتی تھیں، وہ بھی (صدقہ واجبہ یعنی) زکوۃ نہیں ہوتی تھی۔ (شرح معانی الآثار، کتاب الزکوۃ، جلد 1، صفحہ 310، مطبوعه لاہور)
نزہۃ القاری میں ہے: ’’صحیح اور راجح یہی ہے کہ یہ صدقہ نافلہ تھا، اس پر قرینہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰ عنہ کی حدیث کے یہ الفاظ ہیں، کہ فرمایا: زوجک وولدک احق من تصدقت بہ علیھم۔ تیرا شوہر اور تیرا بچہ سب سے زیادہ مستحق ہے، اس لئے کہ اس پر اجماع ہے کہ بچے کو زکوۃ دینا درست نہیں۔ (نزھۃ القاری، جلد 2، صفحہ 946، فرید بک اسٹال، لاہور)
فتاوی رضویہ میں ہے: رسول ﷲ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: انت ومالک لابیک (تو اور تیر ا مال سب تیرے باپ کا)،۔۔۔ حکم سعادت تو یہ ہے مگر باینہمہ قضاءً باپ بیٹے کی ملک جدا ہے۔ (لیکن) باپ اگر محتاج ہو تو بقدر حاجت بیٹے کے فاضل مال سے بے اس کی رضا واجازت کے لے سکتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 18، صفحہ 313، 314، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
(2) شوہر بیوی کو زکوۃ نہیں دے سکتا، یہاں زکوۃ نہ دینے کی وجہ شوہر پر بیوی کا نفقہ واجب ہونا نہیں، بلکہ ممانعت کی علت رشتہ ازدواج اور منافع کا اشتراک ہے، تو جس علت کی وجہ سے شوہر بیوی کو زکوۃ نہیں دے سکتا، وہی علت بیوی کے حق میں شوہر کے لئے بھی پائی جا رہی ہے، تو قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ بیوی بھی شوہر کو زکوۃ نہیں دے سکتی، اس کی نظیر اولاد اور والدین کا معاملہ ہے کہ ایک دوسرے کا نفقہ ان پر لازم ہو یا نہ ہو، بہرحال نسبی رشتے کی وجہ سے ایک دوسرے کو زکوۃ نہیں دے سکتے۔ تو مذکورہ روایت میں صدقہ واجبہ مراد لیا جائے، تو یہ قیاس کے خلاف بھی ہو جائے گا، لہذا اس سے مراد نافلہ ہی ہے۔
شرح معانی الآثار میں اس کی تفصیل کچھ یوں ہے: ’’في حديث زينب ما يدل ان المراة تعطي زوجها من زكاة مالها اذا كان فقيرا۔ وانما نلتمس حكم ذلك بعد من طريق النظر وشواهد الاصول، فاعتبرنا ذلك فوجدنا المراة باتفاقهم لا يعطيها زوجها من زكاة ماله وان كانت فقيرة ۔۔۔۔۔ ان الذي يمنع الزوج من اعطاء زوجته من زكاة ماله ليس هو وجوب النفقة لها عليه ولكنه السبب الذي بينه وبينها فصار ذلك كالنسب الذي بينه وبين والديه في منع ذلك اياه من اعطائهما من الزكاة فلما ثبت بما ذكرنا ان سبب المراة الذي منع زوجها ان يعطيها من زكاة ماله وان كانت فقيرة هو كالسبب الذي بينه وبين والديه الذي يمنعه من اعطائهما من زكاته وان كانا فقيرين وراينا الوالدين لا يعطيانه ايضا من زكاتهما اذا كان فقيرا فكان الذي بينه وبين والديه من النسب يمنعه من اعطائهما من الزكاة ويمنعهما من اعطائه من الزكاة، فكذلك السبب الذي بين الزوج والمراة لما كان يمنعه من اعطائهما من الزكاة كان ايضا يمنعها من اعطائه من الزكاة ‘‘
ترجمہ: حدیثِ زینب بظاہر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت اپنے شوہر کو اپنی زکوۃ دے سکتی ہے، جبکہ شوہر محتاج ہو، اس کے بعد ہم اس بات کا حکم قیاس اور غور و فکر کے طور پر تلاش کرتے ہیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ بالاتفاق خاوند اپنے مال کی زکوۃ بیوی کو نہیں دے سکتا، چاہے وہ حاجت مند ہی ہو،۔۔۔۔ وہ چیز جو بیوی کو زکوۃ دینے سے خاوند کے لئے رکاوٹ ہے، وہ شوہر پر اس کا نفقہ واجب ہونا نہیں ہے، بلکہ رکاوٹ کا سبب وہ رشتہ ہے، جو ان کے درمیان ہے، پس یہ اس کے نسبی رشتہ کی طرح ہے جو آدمی اور اس کے والدین کے درمیان ہوتا ہے اور اس کے باعث وہ اسے اپنی زکوۃ نہیں دے سکتا، پس جب ہماری گفتگو سے ثابت ہو گیا کہ خاوند اپنی بیوی کو اس کے محتاج ہونے کے باوجود جس سبب سے زکوۃ نہیں دے سکتا، یہ اس سبب کی طرح ہے جو ماں باپ اور اولاد کے درمیان ہے، جو اولاد کے لئے ماں باپ کو زکوۃ دینے سے مانع ہے، اگرچہ وہ محتاج ہوں اور ہم دیکھتے ہیں کہ اولاد کے فقیر ہونے کے باوجود ماں باپ انہیں اپنی زکوۃ میں سے نہیں دے سکتے، تو اس کی وجہ نسبی رشتہ ہے جس کی بناء پر نہ وہ اپنی اولاد کو زکوۃ دے سکتے ہیں اور نہ اولاد ان کو دے سکتی ہے، اسی طرح زوجین میں جو رشتہ خاوند کے لئے بیوی کو زکوۃ دینے سے مانع ہے، وہ بیوی کو بھی اس بات سے روکتا ہے کہ خاوند کو زکوۃ دے۔ (شرح معانی الآثار، جلد 1، صفحہ 311، مطبوعه لاہور)
مراۃ المناجیح میں ہے: عورت و خاوند کے مال قریباً مشترک ہوتے ہیں، تو جب خاوند بیوی کو زکوۃ نہیں دے سکتا، تو بیوی خاوند کو زکوۃ کیسے دے سکتی ہے۔‘‘ (مراۃ المناجیح، جلد 3، صفحہ 120، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
(3) اگر یوں کہا جائے کہ ایک طرف نص ہے، دوسری طرف قیاس، تو نص کے مقابلہ میں قیاس کو ترجیح کیسے ہو گی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں قیاس نص کے معارض نہیں ہے، بلکہ نص میں (واجبہ و نافلہ) دو معنی کا احتمال تھا، تو مختلف قرائن (مثلاً شوہر کے ساتھ اولاد کا ذکر کرنا، صدقہ کا محلِ ترغیب میں ہونا وغیرہ) کی بنیاد پر ان میں سے نافلہ کو ترجیح دی گئی ہے۔
علامہ نور الدین سندھی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: ’’(الصدقۃ) اطلاقہ یشمل الواجبۃ وغیرھا‘‘ یعنی یہاں جو صدقہ ذکر کیا گیا اس کا اطلاق واجبہ اور نافلہ ہر دو کو شامل ہے۔ (حاشیہ سندی علی سنن ابن ماجہ، جلد 1، صفحہ 563، مطبوعہ بیروت)
یہاں قیاس نص کے معارض نہیں۔ چنانچہ فتح القدیر میں ہے: ’’أن ذلك كان في صدقة نافلة لأنها هي التي كان عليه الصلاة والسلام يتخول بالموعظة والحث عليها وقوله هل يجزئ إن كان في عرف الفقهاء الحادث لا يستعمل غالبا إلا في الواجب، لكن كان في ألفاظهم لما هو أعم من النفل لأنه لغة الكفاية، فالمعنى: هل يكفي التصدق عليه في تحقيق مسمى الصدقة وتحقيق مقصودها من التقرب إلى الله تعالى، فيسلم القياس حينئذ عن المعارض‘‘ ترجمہ: بے شک یہ بات نفلی صدقہ کے متعلق تھی، کیونکہ یہی وہ صدقہ ہے جس کی نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نصیحت فرمایا کرتے اور اس کی ترغیب دیا کرتے تھے اور ان کا قول (یعنی شوہر کو صدقہ دینے کے متعلق سوال کہ) کیا ان کو دینا کافی ہو جائے گا؟ تو اگرچہ فقہاء کے عرفِ حادث میں یہ لفظ عموماً واجب کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے، لیکن ان کے کلام میں یہ نفل کو بھی شامل ہوتا ہے، کیونکہ لغت کے اعتبار سے اس کا معنیٰ کفایت کرنا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ کیا شوہر پر صدقہ کرنا صدقہ کا نام صادق آنے اور اس سے مقصود یعنی قربِ الہی حاصل ہونے کے لئے کافی ہو جائے گا؟ تو یہ قیاس معارض سے محفوظ ہے۔ (فتح القدیر، کتاب الزکوۃ، جلد 2، صفحہ 270، دار الفکر، بیروت)
نوٹ: مزید وجوہات کی تفصیل اور دلائل جاننے کے لئے امام اجل امام ابو جعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کی’’شرح معانی الآثار‘‘، شارح بخاری مولانا مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ کی ’’نزھۃ القاری‘‘ اور مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ کی ’’ مراۃ المناجیح‘‘ملاحظہ فرمائیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7714
تاریخ اجراء:04 شعبان المعظم 1447ھ/24 جنوری 2026 ء