logo logo
AI Search

غریب کسان پر عشر کا حکم؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

غریب کسان کے لیے عشر کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا غریب کسان کی فصل پر بھی عشر لازم ہو گا؟ جس کا گزر بسر بڑی مشکل سے ہو رہا ہو۔

جواب

غریب کسان کی فصل پر بھی عشر، یا نصف عشر لازم ہے، کیونکہ عشر، یا نصف عشر، اپنی شرائط کے مطابق فصل پر لازم ہوتا ہے، اس میں فصل والے کے امیر یا غریب ہونے کا کوئی دخل نہیں ہے، کہ اس میں صاحب نصاب ہونا شرط نہیں ہے، لہذا جس کی بھی فصل کی پیداوار ہو گی، اس پر درج ذیل تفصیل کے مطابق عشر، یا نصف عشر لازم ہو گا:

جو کھیت، بارش، یا نہر نالے کے پانی سے سیراب کیا جائے، اس میں عُشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے، اور جس کی آبپاشی، ٹیوب ویل، موٹر یا چرسے، یا ڈول سے ہو، اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب ہے، اور پانی خرید کر آبپاشی ہو، یعنی وہ پانی کسی کی مِلک ہے، اُس سے خرید کر آبپاشی کی، جب بھی نصف عشر واجب ہے، اور اگر وہ کھیت کچھ دنوں بارش کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے، اور کچھ دنوں ڈول، چرسے، یا ٹیوب ویل، یا موٹر سے، تو اگر اکثر بارش کے پانی سے کام لیا جاتا ہے، اور کبھی کبھی ڈول، چرسے، ٹیوب ویل وغیرہ سے، تو عشر واجب ہے، ورنہ (یعنی اگر اکثر ڈول، چرسے وغیرہ سے، اور کبھی کبھی بارش وغیرہ سے ہو، تو) نصف عشر لازم ہو گا۔

عشر واجب ہونے کے لئے نصاب شرط نہیں، بدائع الصنائع میں ہے "النصاب لیس بشرط لوجوب العشر" ترجمہ: وجوبِ عشر کے لئے نصاب شرط نہیں۔ (بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 30، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

ڈول، چرسے یا ٹیوب ویل کے ذریعے سینچی گئی زمین پر نصف عشر لازم ہوگا، چنانچہ اسی میں ہے "فما سقي بماء السماء، أو سقي سيحا ففيه عشر كامل، وما سقي بغرب، أو دالية، أو سانية ففيه نصف العشر، والأصل فيه ما روي عن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم أنه قال «ما سقته السماء ففيه العشر وما سقي بغرب، أو دالية، أو سانية ففيه نصف العشر "»ترجمہ: جو زمین، آسمان، یا نہر کے پانی سے سیراب کی جائے، تو اس میں مکمل عشر واجب ہے، اور جو کھیتی، ڈول، یا چرسے یا سانیہ (بڑے ڈول) سے سیراب کی جائے، اس میں آدھا عشر (یعنی بیسواں حصہ) واجب ہوتا ہے۔ اس کی اصل رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے مروی حدیث پاک ہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کھیتی کو آسمان (بارش) سیراب کرے، تو اس میں عشر ہے، اور جس کو ڈول، یا چرسے، یا بڑے ڈول سے سیراب کیا جائے، تو اس میں آدھا عشر ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 62، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے "ويجب العشر عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - في كل ما تخرجه الأرض من الحنطة والشعير والدخن والأرز" ترجمہ: امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک زمین کی ہر پیداوار، گندم، جو، چاول، باجرے وغیرہ میں عشر واجب ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری، جلد 1، صفحہ 186، دارالفكر، بيروت)

بہار شریعت میں ہے "اس میں نصاب بھی شرط نہیں، ایک صاع بھی پیداوار ہو تو عشر واجب ہے۔۔جو کھیت بارش یا نہر نالے کے پانی سے سیراب کیا جائے، اس میں عُشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے اور جس کی آبپاشی چر سے یا ڈول سے ہو، اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب اور پانی خرید کر آبپاشی ہو یعنی وہ پانی کسی کی مِلک ہے، اُس سے خرید کر آبپاشی کی جب بھی نصف عشر واجب ہے اور اگر وہ کھیت کچھ دنوں مینھ کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور کچھ دنوں ڈول چرسے سے تو اگر اکثر مینھ کے پانی سے کام لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی ڈول چرسے سے تو عشر واجب ہے، ورنہ نصف عشر۔"(ملتقطاً) (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 917، 918، مکتبۃالمدینۃ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4977
تاریخ اجراء: 16 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 04 مئی 2026ء