logo logo
AI Search

سوکھ جانے والے درختوں پر عشر کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

باغ میں سوکھ جانے والے درخت پر عشر کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا امرود کا باغ ہے۔ اگر باغ کا کوئی درخت سوکھ جائے، تو وہ اس کی لکڑی فروخت کر دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سُوکھ جانے والے درخت کا بھی عشر دینا ہوگا یا نہیں؟

جواب

شریعتِ اسلامیہ میں عشر کے حوالے سے اُصول یہ ہےکہ جن چیزوں کی پیداوار سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود ہو اور انہیں بالقصد یعنی منافع حاصل کرنے کی نیت سے ہی کاشت کیا جائے، ان کی پیداوار پر عشر یا نصف عشر واجب ہوتا ہے اور جن چیزوں کی پیداوار سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود نہ ہو اور نہ ہی انہیں منافع حاصل کرنے کی نیت سے باقاعدہ کاشت کیا جائے، اُن پر عشر لازم نہیں ہوتا، چونکہ امرود کی فصل میں اصل مقصود اس کا پھل ہوتا ہے، نہ کہ خود درخت، یعنی زمین کے منافع حاصل کرنے کے لیے امرود کے پھل کی پیداوار مقصود ہوتی ہے اور اسی نیت سے اس کی باقاعدہ کاشت کی جاتی ہے، درخت بذاتِ خود مقصود نہیں ہوتے، لہٰذا امرود کے جو درخت سُوکھ جائیں، اُن پر عشر واجب نہیں ہوگا، البتہ امرود کے پھلوں پر اپنی تفصیل کے مطابق عشر یا نصف عشر دینا لازم ہوگا۔

جس پیداوار سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود نہ ہو، اُس پر عشر لازم نہ ہونے کے متعلق ملک العلماء علامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 587ھ/1191ء) لکھتے ہیں: ”منها ان يكون الخارج من الارض مما يقصد بزراعته نماء الارض وتستغل الارض به عادة فلا عشر في الحطب والحشيش والقصب الفارسي لان هذه الاشياء لا تستنمى بها الارض ولا تستغل بها عادة“ ترجمہ: ان (یعنی عشر کے وجوب کی شرائط) میں سے ایک شرط یہ ہے کہ زمین سے نکلنے والی چیز ایسی ہو جس کی کاشت سے زمین کی پیداوار مقصود ہو اور عادتاً اسی کے ذریعے زمین سے نفع حاصل کیا جاتا ہو، لہٰذا لکڑی، گھاس اور فارسی بانس میں عشر واجب نہیں، کیونکہ ان چیزوں کے ذریعے نہ زمین کی پیداوار مقصود ہوتی ہے اور نہ ہی عادتاً ان کے ذریعے زمین سے نفع حاصل کیا جاتا ہے۔ (بدا ئع الصنائع، جلد 02، صفحہ 58، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بیروت)

علامہ علاؤالدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1088ھ/1677ء) لکھتے ہیں: ”(الا فيهما) لا يقصد به استغلال الارض (نحو حطب وقصب)۔۔۔ وشجر قطن“ ترجمہ: مگر ان چیزوں میں عشر واجب نہیں جن سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود نہ ہو، جیسے لکڑی، بانس۔۔۔۔اور کپاس کا درخت۔ (الدرالمختار، جلد03، صفحہ315، مطبوعہ کوئٹہ)

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ میں ہے: ”(سئل) في رجل له اشجار مثمرة في ارض عشرية فقطعها ويريد العشری اخذ عشرها فهل له ذلك؟(الجواب): لا عشر في نفس الاشجار المثمرة كما في الزيلعي والبحر وغيرهما (اقول) وانما العشر في نفس الثمر وفي الاشجار المعدة للقطع“ ترجمہ: ایک شخص کے متعلق سوال کیا گیا کہ جس کے پاس عشری زمین میں پھل دار درخت ہیں، پھر اُس نے انہیں کاٹ دیا اور عشر وصول کرنے والا اُن درختوں کا عشر لینا چاہتا ہے، تو کیا اُسے یہ حق حاصل ہے؟ جواب: نہیں، خود پھل دار درختوں میں عشر واجب نہیں، جیسا کہ زیلعی، بحر اور دیگر کتب میں مذکور ہے۔ (میں کہتا ہوں) عشر تو صرف خود پھل میں واجب ہوتا ہے اور اُن درختوں میں جو کاٹنے کے لیے تیار کیے گئے ہوں۔ (العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ، جلد 01، صفحہ 12، مطبوعہ دار المعرفۃ، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”جو چیزیں ایسی ہوں کہ اُن کی پیداوار سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود نہ ہو، اُن میں عشر نہیں، جیسے ایندھن، گھاس، نرکل، سینٹھا، جھاؤ، کھجور کے پتے۔۔۔ اور اگر نرکل، گھاس، بید، جھاؤ وغیرہ سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود ہو اور زمین ان کے لیے خالی چھوڑ دی، تو اُن میں بھی عشر واجب ہے۔“ (بھارِ شریعت، جلد1، حصہ 05، صفحہ917، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9907
تاریخ اجراء:18 شوال المکرم 1447ھ/07 اپریل 2026 ء