logo logo
AI Search

زکوٰۃ کی رقم سے طالب علم کو کھانا کھلانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مدرسے میں دی گئی زکوٰۃ کی رقم سے حیلہ کیے بغیر طلبا کو کھانا کھلانے سے زکوٰۃ کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جامعہ میں آنے والی زکوٰۃ و عشر کی رقم سے شرعی حیلہ کئے بغیر جامعہ کے رہائشی طلبا کے لئے کھانا تیار کرکے طلبا کو کھلا سکتے ہیں یا نہیں؟ اسی طرح اگر کوئی زکاۃ کی مد میں کھانے کی اشیا دے جائے کہ یہ تیار کر کے طلبا کو کھلا دی جائیں تو کیا بغیر شرعی حیلہ کیے، اس طرح کھلانے سے زکاۃ ادا ہو جائے گی ؟

جواب

زکاۃ یا عشرکی رقم سے حیلہ شرعی کیے بغیر، بچوں کو کھانا کھلانے سے بھی زکاۃ ادا نہیں ہوگی اور اسی طرح زکاۃ کی مد میں آئی ہوئی کھانے کی اشیا کو حیلہ شرعی کیے بغیر جامعہ کے طلبا کو پکا کر کھلانے سے بھی زکاۃ ادا نہیں ہوگی۔کیونکہ زکوٰۃ و عشر کی ادائیگی میں کسی مصرف زکوٰۃ کو مالک بنانا ضروری ہے اور جیسے عام طور پر مدارس میں کھانا کھلایا جاتا ہے، تو یہ اباحت کی صورت ہوتی ہے، اس میں تملیک نہیں ہوتی۔

قرآن پاک میں زکاۃ کے متعلق ارشاد خداوندی ہے: ﴿وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور زکوۃ دو۔ (سورۃ البقرۃ، پ 01، آیت 43)

 قرآن پاک میں عشر کے متعلق ارشاد خداوندی ہے: ﴿وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور اس کا حق دو جس دن کٹے۔ (سورۃ الانعام، پ 08، آیت 141)

پس قرآن پاک میں زکاۃ اور عشر دونوں کے متعلق "ایتاء" کا حکم ہے اور "ایتاء" کا مطلب ہوتا ہے تملیک یعنی مالک بنانا چنانچہ بدائع الصنائع میں یہی آیت مبارکہ ذکر کرنے کے بعد تحریر کیا گیا ہے”والإيتاء هو التمليك“ ترجمہ: اور ایتاء، تملیک ہی ہے۔ (بدائع الصنائع، فصل رکن الزکوۃ، ج 2، ص 39، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

در مختار میں ہے ”ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة“ ترجمہ: زکوٰۃ ادا کرنے میں بطور تملیک خرچ کرنا شرط ہے نہ کہ بطورِ اباحت۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے ”(قوله: تمليكا) فلا يكفي فيها الإطعام إلا بطريق التمليك ولو أطعمه عنده ناويا الزكاة لا تكفي ط“ ترجمہ: (مصنف کا قول: بطور تملیک) تو زکوٰۃ کی مد میں کھانا کھلانا کافی نہیں ہوگا مگر جب بطور تملیک ہو، تو اگر کسی نے زکوٰۃ کی نیت سے کسی کو کھانا کھلایا تو کفایت نہیں کرے گا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الزکاۃ، ج 2، ص 344، دار الفکر، بیروت)

عشر کی ادائیگی کے لئے تملیک کے شرط ہونے کے حوالے سے بدائع الصنائع میں ہے ”أما ركنه فهو التمليك، لقوله تعالى ﴿وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ ﴾ والإيتاء هو التمليك لقوله تعالى ﴿وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ ﴾ فلا تتأدى بطعام الإباحة وبما ليس بتمليك رأسا من بناء المساجد ونحو ذلك“ ترجمہ: عشر کی ادائیگی کا رکن مالک بنانا ہے، اللہ عزوجل کے اس فرمان کی وجہ سے کہ (اس کا حق دو جس دن کٹے) اور دینا وہ تملیک ہی ہے اللہ عزوجل کے اس فرمان کی وجہ سے (اور زکوٰۃ ادا کرو) تو کھانے کو مباح کردینے، مسجد کی تعمیر میں دینے یا اسی طرح کے دیگر کاموں سے عشر ادا نہ ہوگا جب تک تملیک نہ پائی جائے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الزکاۃ، ج 2، ص 518، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے "مدرسہ اسلامیہ اگر صحیح اسلامیہ خاص اہلسنت کا ہو۔۔۔تو اس میں مالِ زکوٰۃ اس شرط پر دیا جا سکتا ہے کہ مہتمم اس مال کو جُدا رکھے اور خاص تملیک فقیر کے مصارف میں صرف کرے مدرسین یا دیگر ملازمین کی تنخواہ اس سے نہیں دی جاسکتی۔ نہ مدرسہ کی تعمیر یا مرمت یا فرش وغیرہ میں صرف ہوسکتی ہے، نہ یہ ہوسکتا ہے کہ جن طلبہ کو مدرسہ سے کھانا دیا جاتا ہے اُس روپے سے کھانا پکا کر اُن کو کھلایا جائے کہ یہ صورتِ اباحت ہے اور زکوٰۃ میں تملیک لازم ہاں یُوں کرسکتے ہیں کہ جن طلبہ کو کھانا دیا جاتا ہے اُن کو نقد روپیہ بہ نیّت زکوٰۃ دے کر مالک کردیں پھر وُہ اپنے کھانے کیلئے واپس دیں یاجن طلبہ کا وظیفہ نہ اجرۃً بلکہ محض بطور امداد ہے اُن کے وظیفے میں دیں یا کتابیں خرید کر طلبہ کو اُن کا مالک کردیں۔ ہاں اگر روپیہ بہ نیّت زکوٰۃکسی مصرف زکوٰۃ کو دے کر مالک کردیں وُہ اپنی طرف سے مدرسہ کو دے دے تو تنخواہ مدرسین و ملازمین وغیرہ جملہ مصارف مدرسہ میں صرف ہوسکتاہے۔" (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 254-255، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: ابو الحسن مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-723
تاریخ اجراء: 09 رجب المرجب 1444 ھ/ 01 فروری 2023ء