سات تولہ سونا ہو اور اضافی موٹر سائیکل بھی ہو تو زکوٰۃ ہوگی؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
سونے کے ساتھ اضافی موٹر سائیکل ہو، تو زکوۃ و قربانی اور صدقہ فطر کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
پوچھی گئی صورت میں اس شخص پر زکوۃ فرض نہیں ہو گی، البتہ دیگر شرائط کی موجودگی میں قربانی و صدقۂ فطر واجب ہو جائیں گے۔ اس مسئلہ کی تفصیل جاننے کے لئے چند اصول ملاحظہ فرمائیں:
(1) اگر کسی کے پاس فقط سونا ہو، اس کے علاوہ سونے کی ہم جنسِ نصاب (یعنی چاندی، روپیہ پیسہ، پرائز بانڈ، مالِ تجارت وغیرہ) میں سے کوئی اور مالِ زکوۃ نہ ہو، تو جب تک سونا وزن کے اعتبار سے ساڑھے سات (7.5) تولہ مکمل نہ ہو، اس پر زکوۃ فرض نہیں ہو گی۔
(2) اگر سونے کے ساتھ ہم جنسِ نصاب (مثلاً چاندی، روپیہ پیسہ، پرائز بانڈ یا مالِ تجارت وغیرہ) میں سے کوئی چیز مل جائے یا چاندی، نقدی، پرائز بانڈ، مالِ تجارت وغیرہ تنہا یا اپنی ہم نصاب چیزوں کے ساتھ مل جائیں، تو ان پر فرضیتِ زکوۃ کا نصاب ساڑھے باون (52.5) تولے چاندی کی مالیت ہوتی ہے۔
(3) قربانی واجب ہونے کی بھی قدرے تفصیل تو یہی ہے کہ اگر فقط سونا ہو، تو جب تک ساڑھے سات تولے کی مقدار کو نہیں پہنچے گا، قربانی واجب نہیں ہو گی، لیکن اگر سونے کے ساتھ اس کا ہم جنس مال (چاندی، مالِ تجارت وغیرہ) یا اس کے علاوہ مالِ زکوۃ (مثلاً سائمہ جانور)یا پھر حاجتِ اصلیہ سے زائد کوئی بھی سامان مل جائے، تو اس کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر یا زائد ہونے کی صورت میں قربانی واجب ہو جائے گی۔
ان اصولوں کی روشنی میں صورتِ مسئولہ کا جواب واضح ہو گیا کہ جب آپ کے پاس فقط سات تولہ سونا ہے اور اس کے علاوہ جنسِ نصاب (چاندی، روپیہ پیسہ، مالِ تجارت وغیرہ) میں سے کچھ بھی نہیں، تو آپ پر اس سونے کی زکوۃ فرض نہیں ہو گی۔ البتہ اس مالی کیفیت کے مطابق قربانی کے ایام میں آپ پر قربانی اور عید الفطر کے دن صدقۂ فطر واجب ہو جائے گا، کیونکہ قربانی و صدقۂ فطر کے نصاب میں سونے کے ساتھ حاجت اصلیہ سے زائد سامان بھی شامل ہوتا ہے اور پھرمذکورہ صورت میں نصاب ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت ہے، تو سات (7) تولہ سونا اور اضافی (حاجتِ اصلیہ سے زائد) موٹر سائیکل کی مجموعی مالیت ساڑھے باون (52.5) تولہ چاندی کی مالیت سے کہیں زیادہ بنتی ہے۔
مذکورہ اصولوں کے متعلق جزئیات بالترتیب ملاحظہ فرمائیں:
اگر صرف سونا ہو، تو زکوٰۃ اس وقت فرض ہو گی کہ جب وہ ساڑھے سات تولہ مکمل ہو۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: لیس فیما دون مائتی درھم شئ و لا فیما دون عشرین مثقالا ذھبا شئ“ ترجمہ:دو سو درہم (ساڑھے باون تولہ چاندی)سے کم میں کوئی چیز نہیں ہے اور بیس مثقال (ساڑھے سات تولہ سونے) سے کم میں کوئی چیز نہیں ہے۔ (الاموال لابن زنجویہ، جلد 3، صفحہ 987، مطبوعہ السعودیۃ)
تحفۃ الفقہاء میں ہے: اما الذھب المفرد ان یبلغ نصابا و ذلک عشرون مثقالا ففیہ نصف مثقال و ان کان اقل من ذلک فلا زکاۃ فیہ“ ترجمہ: صرف سونا ہو، تو اگر وہ نصاب کو پہنچے، تب اس میں زکوٰۃ فرض ہو گی اور سونے کا نصاب بیس مثقال (یعنی ساڑھے سات تولہ) سونا ہے اور اگر سونا اس سے کم ہو، تو اس میں زکوٰۃ فرض نہیں ہو گی۔ (تحفۃ الفقھاء، ج 1، ص 266، مطبوعہ بیروت)
اگر سونے کے ساتھ چاندی، مالِ تجارت وغیرہ جنسِ نصاب میں سے کوئی مال ہو، تو وجوبِ زکوۃ کا نصاب ساڑھے 52 تولے چاندی کی مالیت ہے۔ تبیین الحقائق میں ہے: تضم قیمۃ العروض الی الذھب و الفضۃ و یضم الذھب الی الفضۃ بالقیمۃ فیکمل بہ النصاب لان الکل من جنس واحد“ ترجمہ: سامان کی قیمت کو سونے چاندی کی قیمت کے ساتھ ملایا جائے گا اور سونے کو قیمت کے اعتبار سے چاندی کے ساتھ ملایا جائے گا تاکہ نصاب مکمل ہو جائے، کیونکہ یہ سب ایک ہی جنس سے ہیں۔ (تبیین الحقائق، جلد 1، صفحہ 281، مطبوعہ ملتان)
مفتئ اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی وقار الدین قادری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: جس کے پاس صرف سونا ہے، روپیہ پیسہ، چاندی اور مالِ تجارت بالکل نہیں، اس پر سوا سات تولے تک سونے میں زکوٰۃ فرض نہیں ہے، جب پورے ساڑھے سات تولہ ہو گا، تو زکوٰۃ فرض ہو گی، اسی طرح جس کے پاس صرف چاندی ہے، سونا، روپیہ پیسہ اور مالِ تجارت بالکل نہیں ہے، اس پر باون تولے چاندی میں بھی زکوٰۃ فرض نہیں ہے، جب ساڑھے باون تولہ پوری ہو یا اس سے زائد، تو زکوٰۃ فرض ہو گی۔ لیکن اگر چاندی اور سونا دونوں ہیں یا سونے کے ساتھ روپیہ پیسہ اورمالِ تجارت بھی ہے، اسی طرح صرف چاندی کے ساتھ روپیہ پیسہ اور مالِ تجارت بھی ہے، تو وزن کا اعتبار نہ ہو گا، اب قیمت کا اعتبار ہو گا، لہٰذا سونا چاندی، نقد روپیہ اور مالِ تجارت سب کو ملا کر، اگر ان کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائے، تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔ (وقار الفتاوی، ج 2، ص 384 تا 385، بزم وقار الدین، کراچی)
نصاب کے ساتھ ملانے کے معاملے میں سونا چاندی، روپیہ پیسہ اور مالِ تجارت ایک ہی جنس سے ہیں۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے: یہاں سونا چاندی تو مطلقاًایک ہی جنس ہیں خواہ ان کی کوئی چیز ہو، اور مالِ تجارت بھی انھیں کی جنس سے گنا جائیگا اگر چہ کسی قسم کا ہو کہ آخر اس پر زکوٰۃ یوں ہی آتی ہے کہ اس کی قیمت سونے یا چاندی سے لگا کر انھیں کی نصاب دیکھی جاتی ہے تو یہ سب مال زروسیم ہی کی جنس سے ہیں اور وسطِ سال میں حاصل ہوئے توذہب و فضہ کے ساتھ شامل کردئے جائیں گے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 86، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
قربانی واجب ہونے کے نصاب کے متعلق بدائع الصنائع میں ہے: فلا بد من اعتبار الغنى و هو أن يكون فی ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شیء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه و ما يتأثث به و كسوته و خادمه و فرسه و سلاحه و مالا يستغنی عنه و هو نصاب صدقة الفطر“ ترجمہ: (قربانی میں) مالداری کا اعتبار ہونا ضروری ہے اوروہ یہ ہے کہ اس کی ملکیت میں دو سو درہم (ساڑھے باون تولہ چاندی) یا بیس دینار (ساڑھے سات تولہ سونا) ہوں یا (حاجتِ اصلیہ والی اشیاء مثلاً) رہائش، خانہ داری کے سامان، کپڑے، خادم، گھوڑا، ہتھیار اور وہ اشیاء جن کے بغیر گزارہ نہ ہو، کے علاوہ کوئی ایسی چیزہو، جو نصاب (یعنی دو سو درہم یا بیس دینار) کی قیمت کو پہنچتی ہو اور یہ ہی صدقۂ فطرکا نصاب ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب التضحیۃ، جلد 4، صفحہ 196، مطبوعہ کوئٹہ)
صدقۂ فطر و قربانی کا نصاب ایک ہی ہے اور قربانی کے نصاب میں ہر طرح کا مالِ زکوۃ اور حاجت اصلیہ سے زائد سامان شامل ہوتا ہے۔ چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: قربانی واجب ہونے کے لیے صرف اتنا ضرور ہے کہ وہ ایام قربانی میں اپنی تمام اصلی حاجتوں کے علاوہ 56 روپیہ (اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کے دور میں رائج چاندی کا نصاب) کے مال کا مالک ہو، چاہے وہ مال نقد ہو یا بیل یابھینس یا کاشت، کاشتکار کے ہل بیل اس کی حاجت اصلیہ میں داخل ہیں، ان کا شمار نہ ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 370، رضا فاونڈیشن، لاھور)
صدر الشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کےسوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو، جس کی قیمت دوسو درہم ہو ، وہ غنی ہے، اوس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان، جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے، ان کے سوا جو چیزیں ہوں، وہ حاجت سے زائد ہیں۔ (بھارِ شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 333،مکتبۃالمدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-6913
تاریخ اجراء: 01 شعبان المعظم 1443ھ / 05 مارچ 2022ء