زکوۃ میں رقم کی جگہ جوتے دینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جوتے بیچنے والے کا زکوٰۃ کی مد میں جوتے دینے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میری ایک جوتوں کی دکان ہے، میری جتنی زکوۃ بنتی ہے، کیا اس کی رقم کا حساب کر کے اس کے بدلے میں جوتے مستحق افراد میں زکوۃ کی نیت سےتقسیم کر سکتا ہوں؟ اگر کرسکتا ہوں، تو اس کی کیا قیمت لگا سکتا ہوں وہ قیمت لگانی ہوگی جو ہول سیل پر دکان کے لئے خریدا گیا ہے یا پروفٹ لگا کر؟ جبکہ پرافٹ فکس نہیں ہوتا، تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ کے لیے جوتوں کے ذریعے زکوۃ ادا کرنا جائز ہے اس صورت میں سال مکمل ہونے کے دن آپ پر جتنی زکوۃ بنتی ہے اتنی ہی مالیت کے جوتے بطور زکوۃ دینے ہوں گے مثلا آپ پر پچاس ہزار روپے زکوۃ بنتی ہے تواب مارکیٹ ریٹ کے حساب سے پچاس ہزار روپے کے جوتے بطور زکوۃ ادا کریں گے۔ اور یہاں مارکیٹ ویلیو کا اعتبار ہوگا خریدنے یا بیچنے کی قیمت کا اعتبار نہیں ہے اور مارکیٹ ویلیو سے مراد یہ ہے کہ مارکیٹ میں یہ جوتا عام طور پر کتنے میں بیچا جاتا ہے۔
فتاوی رضویہ میں ہے: تجارت کی نہ لاگت پر زکاۃ ہے نہ صرف منافع پر، بلکہ سالِ تمام کے وقت جو زرِ منافع ہے اور باقی مالِ تجارت کی جو قیمت اس وقت بازار کے بھاؤ سے ہے، اس پر زکوۃ ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 329، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ماجد رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1593
تاریخ اجراء: 10 رمضان المبارک 1445 ھ/21 مارچ 2024 ء