گنے سے گڑ بنانے پر عشر گنے کا ہوگا یا گڑ کا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
گنے سے گڑ بنا کر بیچنے والے زمیندار پر عشر کس حساب سے لازم ہوگا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زمیندار گنے کی کاشت کرتا ہے۔ اگر گنا سیل کرے تو اس کی قیمت متوقع ایک ایکڑ ایک لاکھ روپے بنے گی مگر بعض زمیندار اس گنے کا گڑ بنا کر بازار میں سیل کرتے ہیں تو یہ تقریبا دو لاکھ روپے پر سیل ہوتا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ اب یہ زمیندار گنے کی فصل کا عشر گنے کے ریٹ پر ادا کرے گا یا گڑ کے ریٹ پر ادا کرے گا۔
جواب
جو زمیندار، گنے سے گڑ بنا کر سیل کرے، اس پر عشر کی ادائیگی گنے کی قیمت کے اعتبار سے لازم ہے گڑ کی قیمت کے اعتبار سے لازم نہیں ہے۔ خزانۃ الاکمل میں ہے "لو باع العنب أو الزبيب أو العصير يوخذ عشر ثمنه. أما لو باع بعد ما جعله ناطفا يوخذ عشر قيمة العنب۔" ترجمہ: اور اگر انگور یا کشمش یا شیرہ بیچا تو اس کے ثمن کا عشر لیا جائے گا۔ بہرحال اگر اس شیرہ سے کوئی مٹھائی (بتاشہ وغیرہ) بنا کر بیچی تو انگور کی قیمت کا عشر لیا جائے گا۔ (خزانۃ الاکمل، کتاب الزکاۃ، ج 01، ص 252، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
العقود الدریۃ میں ہے "و لو باع العنب أو الزبيب أو العصير يأخذ عشر ثمنه. أما لو باع بعدما جعله ناطفا يأخذ عشر قيمة العنب۔ من زكاة خزانة الأكمل." ترجمہ: اور اگر انگور یا کشمش یا شیرہ بیچا تو اس کے ثمن کا عشر لے گا۔ بہرحال اگر اس شیرہ سے کوئی مٹھائی (بتاشہ وغیرہ) بنا کر بیچی تو انگور کی قیمت کا عشر لے گا۔ یہ مسئلہ خزانۃ الاکمل کے کتاب الزکاۃ میں ہے۔ (العقود الدریۃ، باب الزکاۃ و العشر، ج 01، ص 12، دار المعرفۃ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابوحفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-0368
تاریخ اجراء: 18 رمضان المبارک 1443ھ / 20 اپریل 2022ء