کیا وکیل زکوٰة کے پیسوں کو تبدیل کرسکتا ہے؟
کسی کی زکوۃ کی رقم اپنے پاس رکھ کراپنی رقم اس کی زکوۃ میں دینا
مجیب: مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-574
تاریخ اجراء: 20رجب المرجب 1443ھ/22فروری2022ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کسی شخص نے زکوۃ کی رقم دی، اور کہا کہ ان پیسوں سے کسی مستحق کوسامان دلا دینا، وکیل نے اپنے پاس سے اتنی رقم کا سامان مستحق شخص کو دلوادیا، یہ سوچ کر کہ زکوۃ کی رقم والے پیسے میں رکھ لوں گا کیا اس طرح زکوۃ ادا ہوجائے گی؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
زکوۃ کے وکیل نے اپنے پیسے زکوۃ میں دیدیے یا موکل کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اپنے پیسوں سے سامان خرید کر مستحق زکوۃ کو دے دیا اور موکل کے پیسے اس کے عوض میں اپنے پاس رکھ دیے تو جائز ہے اور اس طرح کرنے سے زکوۃ ادا ہوجائے گی۔ لیکن یہ نہیں کرسکتا کہ پہلے زکوۃ کے پیسے اپنے اوپر خرچ کر لے اور پھر بعد میں اپنے طور پر اپنی رقم اس کی زکوۃ میں ادا کردے بلکہ پہلے اپنی رقم سے اس کی زکوۃ ادا کرے پھر بعد میں اس کی رقم استعمال کرے۔
نوٹ: اس میں اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ مستحق کو مال زکوۃ سے سامان دینے کی صورت میں یہ یاد رہے کہ جتنا سامان مستحق کے قبضہ میں دیا اس کی قیمت کے مطابق زکوۃ ادا ہوگی، لانے لیجانے کے اخرجات زکوۃ میں شمار نہیں ہوں گے۔
بہارشریعت میں ہے: زکوۃ دینے والے نے وکیل کوزکوۃ کا روپیہ دیا وکیل نے اُسے رکھ لیا اور اپنا روپیہ زکوۃ میں دے دیا تو جائز ہے، اگر یہ نیّت ہو کہ اس کے عوض مؤکل کا روپیہ لے لے گا اور اگر وکیل نے پہلے اس روپیہ کو خود خرچ کر ڈالا بعد کو اپنا روپیہ زکوۃ میں دیا تو زکوۃ ادا نہ ہوئی بلکہ یہ تبرع ہے اور مؤکل کو تاوان دے گا۔ (بہارشریعت، ج1، ص888، مطبوعہ: مکتبہ المدینہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم