گیس اور سیلنڈر کے کاروبار پر زکوٰۃ کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
گیس اور سیلنڈر کی تجارت پر زکوٰۃ کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرے ایک دوست کا گیس کا کام ہے، ان کے پاس کافی تعداد میں گیس کے سیلنڈر کھے ہیں، جن میں وہ گیس خرید کر بھرواتے ہیں، پھر آگے فروخت کرتے ہیں، تو کیا گیس اور سیلنڈر دونوں پر زکوۃ ہو گی ؟
جواب
شرعی اصول یہ ہے کہ جو چیز بیچنے کی نیت سے خریدی جائے، وہ مالِ تجارت ہے، اور مالِ تجارت پر شرائط پائے جانے کی صورت میں زکوۃ فرض ہوتی ہے، گیس چونکہ اسی لیے خریدی جاتی ہے کہ اسے آگے فروخت کریں گے، تو گیس مالِ تجارت ہے، لہذا گیس کی مارکیٹ ویلیو معلوم کر کے نصاب میں شمار کریں گے، اور نصاب مکمل ہونے کی صورت میں زکوۃ فرض ہوگی، جبکہ دیگر شرائط بھی پائی جا رہی ہوں۔
جہاں تک سیلنڈر کی بات ہے، کہ وہ مالِ تجارت ہو گا یا نہیں، تو اس کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ: اگر سیلنڈر بھی گیس کے ساتھ فروخت کرنے کے لئے خریدتے ہیں، تو بیان کردہ تفصیل کے مطابق، یہ بھی مالِ تجارت ہے، اور اگر سیلنڈر فروخت کرنے کے لئے نہیں ہے، بلکہ اپنے پاس گیس جمع رکھنے کے لئے ہے، تو اس پر زکوۃ فرض نہیں ہوگی۔
درمختار میں ہے
"الاصل ان ما عدا الحجرین والسوائم انما یزکی بنیۃ التجارۃ"
ترجمہ: اصول یہ ہے کہ سونا چاندی اور سائمہ جانوروں کے علاوہ جو چیزیں ہوں، ان کی زکاۃ اس وقت ادا کی جائے گی، جب وہ تجارت کی نیت کے ساتھ خریدی ہوں۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 230، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتح القدیر میں ہے
"لجم الخيل والحمير المشتراة للتجارة ومقاودها وجلالها إن كان من غرض المشتري بيعها به ففيها الزكاة وإلا فلا"
ترجمہ: تجارت کے لئے خریدے ہوئے خچر وں اور گدھوں کی لگاموں، رسیوں اور جھولوں سے مشتری کی غرض اگر یہ ہو کہ ان کو بھی جانوروں کے ساتھ ہی بیچنا ہے، تو ان میں زکوٰۃ لازم ہوگی وگرنہ نہیں۔ (فتح القدیر، ج 2، ص 164، دار الفکر، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4870
تاریخ اجراء:13 شوال المکرم 1447ھ/02 اپریل 2026ء