بیوی کی زکوٰۃ اور قربانی شوہر پر لازم ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بیوی کی زکوٰۃ اور قربانی ادا کرنا شوہر پر لازم ہے ؟ نیز کیا سونے کی ہر سال زکوٰۃ دینی ہے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ (1) ایک شادی شدہ عورت زکوۃ اور قربانی کے حوالہ سے صاحبِ نصاب ہے، یعنی اس کے پاس 8 تولہ سونا موجود ہے اور قرض وغیرہ نہیں ہے، لیکن اس عورت کا ذریعہ آمدن بھی نہیں، اس لئے شوہر ہی اس کی زکوۃ و قربانی ادا کرتا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا شوہر پر بیوی کی طرف سے زکوۃ اور قربانی ادا کرنا شرعاً فرض ہے؟
(2) آٹھ تولہ سونا پر ہر سال زکوۃ دینی ہو گی یا ایک بار دینی کافی ہے؟ (سونا بدستور قائم ہے، زکوۃ رقم سے ادا کی جاتی ہے)۔
جواب
(1) جب بیوی صاحبِ نصاب ہے، تو اس پر لازم ہونے والی زکوۃ و قربانی ادا کرنا بھی بیوی پر ہی فرض ہے، اس کی ادائیگی شرعی اعتبار سے شوہر پر لازم نہیں، البتہ شوہر بیوی کی طرف سے اس کی (صراحتاً یا دلالۃً) اجازت کے ساتھ شرعی تقاضوں کے مطابق زکوۃ و قربانی ادا کرتا ہے، تو اس کی طرف سے ادا ہو جائے گی۔
شوہر پر بیوی کی طرف سے قربانی کرنا لازم نہیں۔ مبسوط للسرخسی میں ہے: ’’(لیس علی الرجل ان یضحی عن اولادہ الکبار ولا عن امراتہ کما لیس علیہ صدقۃ الفطر عنھم فی یوم الفطر) وھذا، لان علیھم ان یضحوا عن انفسھم فلا یجب علیہ ان یضحی عنھم‘‘ ترجمہ: مرد پر اس کی بالغ اولاد اور بیوی کی طرف سے قربانی کرنا لازم نہیں، جیسا کہ اس پر عید کے دن ان کی طرف سے صدقہ فطر دینا لازم نہیں، قربانی اس لئے لازم نہیں کہ یہ انہی پر لازم ہے کہ وہ اپنی طرف سے قربانی کریں، لہذا ان کی طرف سے مرد پر واجب نہیں ہو گی۔ (مبسوط سرخسی، کتاب الذبائح، باب الذبائح، جلد 12، صفحہ 14، مطبوعہ کوئٹہ)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کسی خاتون کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ”عورت اور شوہر کا معاملہ دنیا کے اعتبار سے کتنا ہی ایک ہو مگر ﷲ عزّوجل کے حکم میں وُہ جدا جدا ہیں، جب تمھارے پاس زیور زکوٰۃ کے قابل ہے اور قرض تم پر نہیں شوہر پر ہے تو تم پر زکوٰۃ ضرور واجب ہے اور ہر سال تمام پر زیور کے سوا جو روپیہ یا اور زکوٰۃ کی کوئی چیز تمھاری اپنی ملک میں تھی اس پر بھی زکوٰۃ واجب ہُوئی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 168، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
دوسرے کی طرف سے صدقہ واجبہ اور قربانی ادا کرنے کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہی ہے: ’’قربانی و صدقہ فطر عبادت ہے اور عبادت میں نیت شرط ہے، تو بلا اجازت ناممکن ہے۔ ہاں اجازت کے لئے صراحۃً ہونا ضروری نہیں، دلالت کافی ہے، مثلاً زید اس کے عیال میں ہے، اس کا کھانا پہننا سب اس کے پاس سے ہوتا ہے یا یہ اس کا وکیلِ مطلق ہے، اس کے کاروبار یہ کیا کرتا ہے، ان صورتوں میں ادا ہو جائے گی‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 453، 454، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
(2) جب زکوۃ کا نصاب (گولڈ کی صورت میں) بدستور قائم ہے، تو دیگر شرائط کی موجودگی میں ہر اسلامی سال گزرنے پر زکوۃ فرض ہو گی، ایک بار دیدینا کافی نہیں ہے۔ البتہ شرعی حکم کے مطابق نصاب مکمل ہو جائے، تو اس کے بعد ہر خمس پر زکوۃ بنتی ہے، خمس سے کم معاف ہوتا ہے، اس اعتبار سے آٹھ تولہ میں سے ساڑھے سات تولہ سونے کی زکوۃ فرض ہو گی، بقیہ آدھا تولہ چونکہ خمس نصاب سے کم ہے، اس لئے اس کی زکوۃ معاف ہے۔
فتاوی رضویہ میں ہے: ’’شریعتِ مطہرہ نے سونے چاندی کی نصاب پر کہ حوائجِ اصلیہ سے فارغ ہو، خواہ وہ روپیہ اشرفی ہو، گہنا (زیور) یا برتن یا ورق یا کوئی شے، حولانِ حول قمری کے بعد چالیسواں حصہ زکوۃ مقرر فرمایا ہے، سونےکی نصاب ساڑھے سات تولے ہے اور چاندی کی ساڑھے باون تولے، پھر نصاب کے بعد جو کچھ نصابِ مذکور کے پانچویں حصہ تک نہ پہنچے، معاف ہے، اس پر کچھ واجب نہیں‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 85، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7453
تاریخ اجراء: 28 ذو القعدۃ الحرام 1445ھ / 06 جون 2024ء