logo logo
AI Search

غریب رشتے دار کو کفارے کی رقم دے سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

غریب رشتے دار کو کفارے کی رقم دینا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

غریب رشتے دار کو کفارے کی نقد رقم دے سکتے ہیں؟

جواب

اگر کوئی رشتے دار، جو اپنے اصول و فروع (یعنی اپنی اولاد، در اولاد، اور اپنے آباء و اجداد، اور ماں، دادی، نانی وغیرہ) سے تعلق نہ رکھتا ہو، وہ شرعی فقیر ہو، کہ اس کے پاس قرض اور حاجت اصلیہ کے علاوہ، ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر مال موجود نہ ہو، اور نہ وہ سید یا ہاشمی ہو، تو اسے کفارے کی رقم  دے سکتے ہیں۔ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ”مصرف الزکوٰۃ و العشر۔۔۔ (ھو فقیر، و ھو من لہ ادنی شیء)ای دون نصاب “  ترجمہ: زکوٰۃ اور عشر کا مستحق فقیر ہے، اورفقیر سے مراد وہ شخص ہے جو نصاب سے کم مال کا مالک ہو۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے "و ھو مصرف ایضاً لصدقۃ الفطر و الکفارۃ و النذر و غیر ذلک من الصدقات الواجبۃ" ترجمہ: فقیر صدقہ فطر، کفارے، نذر اور دیگر صدقاتِ واجبہ کا بھی مستحق ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الزکوٰۃ، باب المصرف، جلد 3، صفحہ 333، مطبوعہ: کوئٹہ)

کفارے کے مصارف وہی ہیں، جو زکاۃ کے ہیں۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ قسم کے کفارے کے بیان میں لکھتے ہیں:   ”      کفارہ انہیں مساکین کو دے سکتا ہے جن کو زکوۃ دے سکتا ہے یعنی اپنے باپ ماں اولاد وغیرہم کو جن کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا کفارہ بھی نہیں دے سکتا۔“ (بہار شریعت، حصہ 9، ص 311، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فتاوی رضویہ میں زکوۃ کے مصارف کے متعلق ہے "آدمی جن کی اولاد میں خود ہے یعنی ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی یا جو اپنی اولاد میں ہیں یعنی بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسا نواسی اور شوہر و زوجہ ان رشتوں کے سوا اپنے جو عزیز قریب حاجتمند مصرف زکوۃ ہیں، اپنے مال کی زکوۃ انہیں دے جیسے بہن بھائی، بھتیجا، بھتیجی، ماموں، خالہ چچا، پھوپھی۔" (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 264، رضا فاؤنڈیشن، لاہور) 

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4923
تاریخ اجراء:22 شوال المکرم1447ھ/11 اپریل 2026ء