اسکول میں زکوٰۃ دینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اسکول میں زکوٰۃ کی رقم دینے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا فنڈ سے چلنے والے اسکول کے بچوں کو زکوٰۃ کی رقم سے کتابیں لے کر دے سکتے ہیں یا اسکول بیگ وغیرہ، یا پھر اس اسکول کو وہ رقم دے سکتے ہیں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں اگر اپنی زکوٰۃ کی رقم سے کتابیں یا اسکول بیگ وغیرہ خرید کر غریب بچے کو دیدئیے جائیں یعنی اس کی ملک کردیں تو جتنی ان کی مارکیٹ ویلیو ہوگی اس قدر زکوٰۃ ادا ہو جائے گی بشرطیکہ وہ بچہ نہ ہاشمی ہو اور نہ صاحب نصاب ہو، نیز اگر وہ نابالغ ہے تو اس کے ساتھ ساتھ اس کے والد کا بھی صاحب نصاب نہ ہونا شرط ہے؛ کیونکہ غنی مرد کے نابالغ بچے کو زکوٰۃ دینے کی اجازت نہیں۔ رہا اسکول کو براہِ راست زکوٰۃ دینا تاکہ انتظامیہ اسے اسکول کے اخراجات، مثلاً بجلی پانی کے بل، مرمت اور اساتذہ کی تنخواہوں وغیرہ میں خرچ کر سکے تو یہ جائز نہیں اور اس طرح زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی؛ کیونکہ زکوٰۃ میں تملیک یعنی مستحق کو مالک بنانا شرط ہے جو کہ اس صورت میں نہیں پائی گئی۔
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: عوض زر زکوٰۃ کے محتاجوں کو کپڑے بنا دینا، انہیں کھانا دے دینا جائز ہے اور اس سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، خاص روپیہ ہی دینا واجب نہیں، مگر ادائے زکوٰۃ کے معنی یہ ہیں کہ اس قدر مال کا محتاجوں کو مالک کر دیا جائے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 70، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: زکوٰۃ میں روپے وغیرہ کے عوض بازار کے بھاؤ سے اس قیمت کا غلہ مکا وغیرہ محتاج کو دے کر بہ نیت زکوٰۃ مالک کر دینا جائز و کافی ہے، زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، مگر جس قدر چیز محتاج کی ملک میں گئی بازار کے بھاؤ سے جو قیمت اس کی ہے وہی مجرا ہوگی، بالائی خرچ محسوب نہ ہوں گے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 69 - 70، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
علامہ رضی الدین محمد بن محمد سرخسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 571ھ / 1175ء) لکھتے ہیں:
و لا يجوز صرفها إلى ولد غني إذا كان صغيرا لأنه يعد غنيا بمال أبيه عرفا إن كان فقيرا كبيرا جاز لأنه لا يعد غنيا بمال أبيه
ترجمہ: اور صدقات واجبہ کو کسی غنی شخص کے بچے پر خرچ کرنا جائز نہیں جبکہ وہ نابالغ ہو؛ کیونکہ عرفاً وہ اپنے باپ کے مال کی وجہ سے غنی شمار ہوتا ہے، اور اگر وہ بچہ بالغ فقیر ہو تو جائز ہے؛ کیونکہ وہ اپنے باپ کے مال کی وجہ سے غنی شمار نہیں کیا جاتا۔ (المحیط الرضوی، کتاب الزكاة، باب من توضع فيه الصدقات، جلد 1، صفحہ 552، دار الكتب العلمية، بیروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: مصرف اس کا مثل مصرف صدقۂ فطر و کفارۂ یمین و سائر کفارات و صدقات واجبہ ہے، بلکہ کسی ہاشمی مثلاً شیخ علوی یا عباسی کو بھی نہیں دے سکتے، غنی یا غنی مرد کے نابالغ فقیر بچے کو نہیں دے سکتے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 528، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:
ان ركنها التمليك من فقير مسلم لوجه اللہ تعالى من دون عوض
ترجمہ: زکوٰۃ کا رکن کسی مسلمان فقیر کو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر بغیر کسی معاوضے کے (زکوٰۃ کے مال کا) مالک بنا دینا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 70، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1413ھ / 1993ء) لکھتے ہیں: زکوٰۃ ادا ہونے کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ کسی غیر سید اور غیر مالک نصاب کو مالک بنا کر دی جائے، کسی ایسے کام میں زکوٰۃ خرچ نہیں کی جاسکتی، جہاں پر کوئی مالک نہیں ہوتا ہے، جیسے مسجد، مدرسہ، کنواں یا ہسپتال بنانا وغیرہ اور یہی حکم ہر واجب صدقہ کا ہے، مثلاً صدقہ فطر، نماز روزہ کا فدیہ اور کفارہ وغیرہ۔... (البتہ) یہ کر سکتے ہیں کہ ایسے بچے جن کے باپ غریب ہیں اور زکوٰۃ لینے کے مستحق ہیں، زکوٰۃ کے روپے ان کے ہاتھ میں دے دئیے جائیں، جن سے وہ اپنی فیس ادا کر دیں یا گاڑی کا کرایہ دے دیں، یا ان کو کتابیں خرید کر دی جا سکتی ہیں۔ (وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 398، بزم وقار الدین، کراچی)
و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1138
تاریخ اجراء: 11 شوال المكرم 1447ھ / 31 مارچ 2026ء