logo logo
AI Search

گروی کے بدلے دیے گئے قرض کی زکوٰۃ کس پر؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

گروی کے بدلے قرض لیا تو اس کی زکوٰۃ کس پر لازم ہوگی ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گروی رکھ کرمرتہن نے جو قرض دیا ہوتا ہے، اس کی زکوٰۃ لازم ہوگی یا نہیں؟اگر لازم ہوگی تومرتہن پرلازم ہوگی یا راہن پر ؟ سائل: ساجد عطاری(عزیزآباد)

جواب

گروی کے بدلے جو رقم بطورِ قرض دی جاتی ہے اس کی زکوٰۃ بلاشبہ لازم ہے۔ نیز شرعاً قرض پر دی ہوئی رقم کی زکوٰۃ، مالک، یعنی قرض دینے والے پر لازم ہوتی ہے۔ لہذا اس قرض کی زکوٰۃ راہن (قرض لینے والے) پر نہیں بلکہ مرتہن (قرض دینے والے) پر لازم ہوگی۔

یاد رہے کہ رہن کے عوض دیا گیا قرض، عام قرض ہی کی طرح دین قوی کے حکم میں ہے۔ اس کی زکوٰۃ سال بہ سال فرض ہوتی رہے گی، مگر ادائیگی فوراً لازم نہیں ہوگی بلکہ اس وقت لازم ہوگی جب کل رقم، یا نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر رقم، یا نصاب کا کم از کم پانچواں حصہ یعنی ساڑھے دس تولہ چاندی کی قیمت کے برابر رقم وصول ہو جائے۔ پھر جب بھی بقدر نصاب یا نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہو جائے گا تو جتنی رقم وصول ہوئی ہو، اسی کا چالیسواں حصہ بطورِ زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔ اگر کئی سالوں کے بعد قرض کی وصولی ہوتی ہے تو حساب لگا کر گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃکی ادائیگی واجب ہوگی۔ البتہ سہولت اسی میں ہے کہ قرض میں دی ہوئی رقم کی زکوٰۃ سال بہ سال اداکرتے رہے، تاکہ قرض وصول ہونے پر گزشتہ سالوں کے حساب کتاب کی الجھن، اور تمام سالوں کے ایک ساتھ زکوۃ کی ادائیگی کی مشقت سے بچا جاسکے۔

مرتہن نے راہن کو جو قرض دیا ہے اس کی زکوٰۃ مرتہن پر لازم ہوگی۔ چنانچہ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن اپنے فتاویٰ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: اُس چھپن ۵۶ (روپے) پر زکوٰۃ ہو گی جو اس نے اُس راہن کو قرض دئے ہیں۔“ (فتاویٰ رضویہ، ج 10، ص 134، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اور یہ قرض بھی دین قوی کے حکم میں ہے۔ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے کچھ زمین کسی زمیندار سے ٹھیکہ میں لی اس کے پاس دس ہزار روپیہ جمع کیا، میعاد ٹھیکہ مقرر نہیں، یہ طے ہوا کہ جس وقت روپیہ واپس کریں گے زمین ٹھیکہ سے نکال لیں گے اور اس شخص نے زمین سے نفع حاصل کرنے کی اجازت دی، اس روپیہ کی زکوٰۃ کا کیا حکم ہے اور کس طریقہ سے اس کی زکوٰۃ دی جائے؟ آپ علیہ الرحمۃ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا: ”یہ کوئی صورت ٹھیکہ کی نہیں، ٹھیکہ میں نفع کے مقابل روپیہ ہوتا ہے نہ یہ کہ نفع لیا جائے اور واپسی زمین پر روپیہ واپس ہو جائے، یہ صورت قرض کی ہے اور زمین رہن ہے اور اس سے نفع لینا جائز نہیں او ر اس کی زکوٰۃ اس روپے والے پر واجب، اگر چہ واجب الادا اس وقت ہوگی جب وُہ قرض بقدر نصاب یا خمس نصاب اُس کو وصول ہو۔“ (فتاویٰ رضویہ، ج 10، ص186 ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

دَین کی اقسام اور اس پر زکوٰۃ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فتح القدیرمیں لکھا ہے: ”قسم أبو حنيفة الدين إلى ثلاثة أقسام: قوي وهو بدل القرض ومال التجارة، ومتوسط وهو بدل مال ليس للتجارة كثمن ثياب البذلة وعبد الخدمة ودار السكنى، وضعيف وهو بدل ما ليس بمال كالمهر والوصية وبدل الخلع۔۔۔۔ففي القوي تجب الزكاة إذا حال الحول ويتراخى الأداء إلى أن يقبض أربعين درهما ففيها درهم وكذا فيما زاد فبحسابه، وفي المتوسط لا تجب ما لم يقبض نصابا وتعتبر لما مضى من الحول في صحيح الرواية، وفي الضعيف لا تجب ما لم يقبض نصابا ويحول الحول بعد القبض عليه “

 یعنی امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے دین کو تین قسموں میں تقسیم فرمایا ہے: (1) دینِ قوی: اور وہ قرض، یا مالِ تجارت کا بدل ہے۔ (2) دین متوسط: اور وہ ایسا قرض ہے جو ایسے مال کے بدلے ہو جو تجارت کے لئے نہ ہو، مثلاً کام کاج کے کپڑوں، خدمت کے غلام اور رہائشی گھرکی قیمت۔(3) دین ضعیف: اور وہ غیرمال کا بدل ہے جیسے مہر، وصیت، بدلِ خلع۔۔۔۔چنانچہ دین قوی کی زکاۃ تو سال گزرنے پر واجب ہو جائے گی مگر ادائیگی اس وقت تک مؤخر ہوگی جب تک چالیس دراہم قبضے میں نہ آجائیں، (چالیس دراہم قبضے میں آنے کے بعد) پھر ان میں ایک درہم واجب ہوگا، یونہی چالیس سے زائد دراہم میں اس کے حساب سے۔ اور دین متوسط میں زکوٰۃ اس وقت تک واجب نہ ہوگی جب تک نصاب کے برابر رقم وصول نہ ہو جائے۔ اور صحیح روایت کے مطابق گزرے ہوئے سال کا بھی اعتبار کیا جائے گا۔ اور دین ضعیف میں اس وقت تک زکوٰۃ فرض نہ ہوگی جب تک نصاب پر قبضہ کرنے کے بعد سال بھی نہ گزر جائے۔ (ملتقطا از فتح القدیر، کتاب الزکاۃ، ج 02، ص 176، مطبوعہ: کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی لکھتے ہیں: ”جو مال کسی پر دَین ہو، اس کی زکاۃ کب واجب ہوتی ہے اور ادا کب اس میں تین صورتیں ہیں۔ اگر دَین قوی ہو، جیسے قرض جسے عرف میں دستگرداں کہتے ہیں اور مالِ تجارت کا ثمن مثلاً کوئی مال اُس نے بہ نیتِ تجارت خریدا، اُسے کسی کے ہاتھ اُدھار بیچ ڈالا۔۔۔۔ اور دَین قوی کی زکاۃ بحالتِ دَین ہی سال بہ سال واجب ہوتی رہے گی، مگر واجب الادا اُس وقت ہے جب پانچواں حصہ نصاب کا وصول ہو جائے، مگر جتنا وصول ہوا اتنے ہی کی واجب الادا ہے یعنی چالیس درم وصول ہونے سے ایک درم دینا واجب ہوگا اور اسّی ۸۰ وصول ہوئے تو دو، وعلیٰ ہذا القیاس۔ دوسرے دَین متوسط کہ کسی مالِ غیر تجارتی کا بدل ہو مثلاً گھر کا غلّہ یا سواری کا گھوڑا یا خدمت کا غلام یا اور کوئی شے حاجت اصلیہ کی بیچ ڈالی اور دام خریدار پر باقی ہیں اس صورت میں زکاۃ دینا اس وقت لازم آئے گا کہ دو سو درم پر قبضہ ہو جائے۔۔۔۔ تیسرے دَین ضعیف جو غیر مال کا بدل ہو جیسے مہر، بدل خلع، دیت، بدلِ کتابت یا مکان یا دوکان کہ بہ نیتِ تجارت خریدی نہ تھی اس کا کرایہ کرایہ دار پر چڑھا، اس میں زکاۃ دینا اس وقت واجب ہے کہ نصاب پر قبضہ کرنے کے بعد سال گزر جائے یا اس کے پاس کوئی نصاب اس جنس کی ہے اور اس کا سال تمام ہو جائے تو زکاۃ واجب ہے۔“ (ملتقطا از  بہارِ شریعت، ج 01، ص 906، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا کہ کسی شخص کا روپیہ اگر قرض میں پھیلا ہو تو اس کی زکوٰۃ اس کے ذمہ فرض ہے یا نہیں؟ تو آپ علیہ الرحمۃ نے ارشاد فرمایا: ”جو روپیہ قرض میں پھیلا ہے اس کی بھی زکوٰۃ لازم ہے مگر جب بقدر نصاب یا خمس نصاب وصول ہوا اُس وقت ادا واجب ہوگی جتنے برس گزرے ہوں سب کا حساب لگا کر۔“ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 167، رضافاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی رضویہ میں ہے: ”اور پانچ سو، کہ قرض میں پھیلا ہُوا ہے جب اس میں سے بقدر گیارہ روپے تین آنے 2-5/2 پائی کے وصول ہوتا جائے اُس کا چالیسواں حصّہ ادا کرتا ہے اور اگر فی الحال سب کی زکوٰۃ دے دے تو آئندہ کے با ربار محاسبہ سے نجات ہے۔“ (فتاوی رضویہ، ج10، ص133، رضافاؤنڈیشن، لاہور)

تنبیہ:

یہ بات ذہن نشین رہےکہ مرہونہ شے (گروی رکھی ہوئی چیز) کی زکوٰۃ نہ مرتہن پر لازم ہوتی ہے اور نہ راہن پر، کیونکہ زکوٰۃ فرض ہونے کے لئے ملکِ تام شرط ہے۔ اورملکِ تام اس کو کہتے ہیں کہ جس میں ملکیت اور قبضہ دونوں پائے جائیں، خواہ قبضہ حقیقۃً ہو یا حکماً۔ اور مرہونہ شئے پر ملک تام کسی کی بھی نہیں پائی جاتی، چنانچہ مرہونہ شے راہن کی ملکیت میں تو ہوتی ہے مگر کسی بھی طرح اس کے قبضے میں نہیں ہوتی، جبکہ مرتہن کے قبضے میں تو ہوتی ہے مگر اس کی ملکیت میں نہیں ہوتی، لہذا دونوں میں سےکسی پر اس کی زکوٰۃ لازم نہیں، بلکہ جب راہن بعد میں اسے چھڑالے تب بھی گزشتہ برسوں کی زکوٰۃ اس پر لازم نہیں ہوگی۔

البتہ گروی کے بدلے جو رقم بطورِ قرض دی جاتی ہے وہ مرتہن کی ملکیت میں بھی ہوتی ہے اور حکماً اس کے قبضےمیں بھی یعنی چونکہ وہ اس کے وصول پر قادر ہوتا ہے، اس لئےحکماً قابض بھی شمار ہوتا ہے لہذا اس کی زکوٰۃ مرتہن پر لازم ہوگی۔ فقہائے کرام علیہم الرحمۃنے دین قوی اور دین متوسط میں اسی حکمی قبضے کی بنا پر زکوٰۃ لازم فرمائی ہے۔ البتہ ادائیگی کا حکم کب ہوگا، اس کی تفصیل اوپر ذکر کردی گئی ہے۔

بہار شریعت میں زکوٰۃ فرض ہونے کی دو شرائط بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: ”(۵) مال بقدر نصاب اُس کی مِلک میں ہونا، اگر نصاب سے کم ہے تو زکاۃ واجب نہ ہوئی۔ (تنویر، عالمگیری) ۔(۶) پورے طور پر اُس کا مالک ہو یعنی اس پر قابض بھی ہو۔ “ (بہار شریعت، ج 01، ص 876، مکتبۃالمدینۃ، کراچی)

فتاوی عالمگیری میں ہے: ”ومنها ‌الملك ‌التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة كذا في السراج الوهاج “ یعنی زکوٰۃ کے وجوب کی شرائط میں سے ایک، کامل ملکیت ہے، اور کامل ملکیت وہ ہے جس میں ملکیت بھی ہو اور قبضہ بھی۔بہرحال اگر ملکیت پائی جائے مگر قبضہ نہ ہو، جیسے مہر قبضہ سے پہلے، یا قبضہ پایا جائے مگر ملکیت نہ ہو، جیسے مکاتب یا مدیون کی ملکیت، تو اس میں زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔ یہی حکم السراج الوہاج میں مذکور ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، ج 01، ص 172، مطبوعہ: کوئٹہ)

یہ قبضہ حقیقۃً ہی ہونا لازم نہیں بلکہ حکماً قبضہ بھی کافی ہے۔ جیساکہ فتاوی عالمگیری کے الفاظ "كالصداق قبل القبض" کے تحت اپنی تعلیقات میں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: ”قوله: "كالصداق قبل القبض": ف: دل أن الدين ليس مملوك الدائن يدا لکن قد أوجبوا الزكاة في الدين القوي والوسيط وإن أخروا إيجاب الأداء نعم لم يوجبوا في الضعيف ومنه صداق المرأة وسائر أعواض ما ليس بمال۔ فافهم ١٢ ثم رأيت في جامع الرموز جنح إلى ما ذكرت فقال تحت قوله: (ملكا تاما) ما نصه: "أي كاملا بأن يكون في يده أو يد أمينه كالمضارب أو يد غيرهما كالمستقرض المقر ونحوه كما في النظم ولو فسر التام بيد ورقبة (أي كما فعلوا) لخرج عنه بعض ما ذكرنا اهـ أقول: لكن على ما ذكرتم دخل ما بيد المستقرض الجاحد والغاصب أو المصادر فالأولى أن يقال ما كان بيده حقيقة أو تمكنا بأن كان يتمكن من الوصول إليه ظاهرا فافهم یعنی ان کا قول ”جیسے مہر قبضہ سے پہلے“۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دَین، دائن کے قبضہ میں مملوک نہیں ہوتا۔ لیکن فقہاء نے قوی اور متوسط دین میں زکوٰۃ واجب قرار دی ہے، اگرچہ ادائیگی کے وجوب کو مؤخر رکھا ہے، البتہ دین ضعیف میں زکوٰۃ واجب نہیں کی، اور اسی میں عورت کا مہر اور وہ تمام عوض داخل ہیں جو مال نہیں ہیں۔ اسے سمجھ لو۔پھر میں نے جامع الرموز میں دیکھا کہ انہوں نے میرے بیان کردہ مفہوم کی طرف میلان کیا اور ”ملکِ تام“ کی شرح میں لکھا: ملک کامل، وہ یہ ہے کہ مال اس کے اپنے قبضہ میں ہو، یا اس کے امین کے قبضہ میں ہو جیسے مضارب، یا کسی اور کے قبضہ میں ہو جیسے ایسا قرض لینے والا جو اقرار کرنے والا ہو وغیرہ، جیسا کہ نظم میں ہے۔ اور اگر کامل ملکیت کی تفسیر صرف قبضہ اور عین سے کی جائے (جیسا کہ بعض نے کی ہے) تو ہمارے ذکر کردہ بعض مسائل اس سے خارج ہو جائیں گے۔ میں کہتا ہوں: لیکن تمہارے بیان کے مطابق تو وہ مال بھی داخل ہو جائے گا جو منکر مقروض، غاصب یا ضبط کرنے والے کے قبضہ میں ہے۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے: ملک تام وہ ہے جو حقیقتاً قبضہ میں ہو یا حکماً یعنی بظاہر اس تک رسائی پر وہ قادر ہو۔ اس کو سمجھ لو۔ (التعلیقات الرضویہ علی الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، ص66-67، مکتبۃ اشاعۃ الاسلام، لاہور)

رہن میں زکوٰۃ لازم نہ ہونے سے متعلق تنویر الابصار ودر مختار میں ہے: ” (فلا زكاة على مكاتب) لعدم الملك التام۔۔۔۔۔ولا ‌في ‌مرهون بعد قبضه“ یعنی مکاتب غلام پر زکوٰۃ نہیں کیونکہ اس کی ملک تام نہیں، اور نہ ہی مرہون (گروی رکھی ہوئی چیز) میں زکوٰۃ فرض ہے جب وہ راہن کے قبضہ میں واپس آجائے۔

در مختار کے الفاظ "ولا ‌في ‌مرهون "کے تحت علامہ ابن عابدین شامی قدس سرہ السامی لکھتے ہیں: ”(قوله: ولا ‌في ‌مرهون) أي لا على المرتهن لعدم ملك الرقبة ولا على الراهن لعدم اليد، وإذا استرده الراهن لا يزكي عن السنين الماضية، وهو معنى قول الشارح بعد قبضه، ويدل عليه قول البحر ومن موانع الوجوب الرهن ح وظاهره ولو كان الرهن أزيد من الدين ط“ یعنی مرہون کی زکوٰۃ مرتہن پر اس لیے نہیں کہ اس کو عینِ مال کی ملکیت حاصل نہیں، اور راہن پر اس لیے نہیں کہ اس کا قبضہ نہیں رہا۔ اور جب راہن اسے واپس لے لے تو گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ بھی لازم نہیں ہوگی۔ اور یہی شارح کے قول ”بعد قبضه“ کا مطلب ہے۔ اس پر البحر کی یہ عبارت بھی دلالت کرتی ہے کہ: وجوبِ زکوٰۃ کے موانع میں سے ایک رہن ہے۔ اور اس کا ظاہر یہ ہے کہ اگرچہ رہن کی مالیت قرض سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو تب بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ طحطاوی۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاۃ، ج 03، ص 214، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا کہ سات آٹھ سال رہن رکھا ہوا مال واپس مل جانے کے بعد اُن سابقہ سالوں کی زکوۃ لازم ہوگی یا نہیں؟ تو اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”ان برسوں کی زکوٰۃ واجب نہیں کہ جو مال رہن رکھا ہے اس پر اپنا قبضہ نہیں، نہ اپنے نائب کا قبضہ ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 146، رضا فاؤنڈیشن لاھور)

بہار شریعت میں ہے: ”شے مرہُون کی زکاۃ نہ مرتہن پر ہے، نہ راہن پر، مرتہن تو مالک ہی نہیں اور راہن کی ملک تام نہیں کہ اس کے قبضہ میں نہیں اور بعد رہن چھڑانے کے بھی ان برسوں کی زکاۃ واجب نہیں۔ “ (بہار شریعت، ج 01، ص877، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو عادل محمد بلال عطاری مدنی
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: FMD-4796
تاریخ اجراء: 03 رمضان المبارک 1447ھ / 21 فروری 2026ء