زکوٰۃ کی رقم سے بچوں کو کتابیں اور بیگ دینا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
زکوٰۃ کی رقم سے اسکول کے بچوں کو کتابیں اوربیگ وغیرہ لے کر دینا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فنڈ سے چلنے والے اسکول کے بچوں کو زکوٰۃ کی رقم سے کتابیں، یا اسکول بیگ وغیرہ لے کر دے سکتے ہیں ؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں اگر اپنی زکوٰۃ کی رقم سے کتابیں یا اسکول بیگ وغیرہ خرید کر غریب بچے کو دیدئیے جائیں یعنی اس کی ملک کر دیں، تو جتنی ان کی مارکیٹ ویلیو ہوگی، اس قدر زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، بشرطیکہ وہ بچہ نہ سید یا ہاشمی ہو، اور نہ صاحب نصاب ہو، نہ زکوۃ دینے والے کی اولاد میں سے ہو، نیز اگر وہ نابالغ ہے، تو اس کے ساتھ ساتھ اس کے والد کا بھی صاحب نصاب نہ ہونا شرط ہے؛ کیونکہ غنی مرد کے نابالغ بچے کو زکوٰۃ دینے کی اجازت نہیں۔
علامہ رضی الدین محمد بن محمد سرخسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 571ھ/1175ء) لکھتے ہیں:
”ولا يجوز صرفها إلى ولد غني إذا كان صغيرا لأنه يعد غنيا بمال أبيه عرفا إن كان فقيرا كبيرا جاز لأنه لا يعد غنيا بمال أبيه“
ترجمہ: اور صدقات واجبہ کو کسی غنی شخص کے بچے پر خرچ کرنا جائز نہیں جبکہ وہ نابالغ ہو؛ کیونکہ عرفاً وہ اپنے باپ کے مال کی وجہ سے غنی شمار ہوتا ہے، اور اگر وہ بچہ بالغ فقیر ہو تو جائز ہے؛ کیونکہ وہ اپنے باپ کے مال کی وجہ سے غنی شمار نہیں کیا جاتا۔ (المحیط الرضوی، کتاب الزكاة، باب من توضع فيه الصدقات، جلد 1، صفحہ 552، دار الكتب العلمية، بیروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے
”ولا يدفع إلى أصله، وإن علا، وفرعه، وإن سفل كذا في الكافي“
ترجمہ: اپنی اصل اگرچہ کتنی ہی اوپر ہو اور اپنی فرع اگرچہ کتنی ہی نیچی ہو، انہیں زکوٰۃ نہیں دے سکتا، جیسا کہ کافی میں ہے۔ (فتاوی ہندیہ، ج 1، ص 188، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام اہل سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”زکوٰۃ میں روپے وغیرہ کے عوض بازار کے بھاؤ سے اس قیمت کا غلہ مکا وغیرہ محتاج کو دے کر بہ نیت زکوٰۃ مالک کر دینا جائز و کافی ہے، زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، مگر جس قدر چیز محتاج کی ملک میں گئی بازار کے بھاؤ سے جو قیمت اس کی ہے وہی مجرا ہوگی، بالائی خرچ محسوب نہ ہوں گے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 69-70، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مزید تحریر فرماتے ہیں: ”مصرف اس کا مثل مصرف صدقۂ فطر و کفارۂ یمین و سائر کفارات و صدقات واجبہ ہے، بلکہ کسی ہاشمی مثلاً شیخ علوی یا عباسی کو بھی نہیں دے سکتے، غنی یا غنی مرد کے نابالغ فقیر بچے کو نہیں دے سکتے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 528، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1413ھ/1993ء) لکھتے ہیں: ”زکوٰۃ ادا ہونے کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ کسی غیر سید اور غیر مالک نصاب کو مالک بنا کر دی جائے، کسی ایسے کام میں زکوٰۃ خرچ نہیں کی جا سکتی، جہاں پر کوئی مالک نہیں ہوتا ہے، جیسے مسجد، مدرسہ، کنواں یا ہسپتال بنانا وغیرہ اور یہی حکم ہر واجب صدقہ کا ہے، مثلاً صدقہ فطر، نماز روزہ کا فدیہ اور کفارہ وغیرہ۔۔۔ (البتہ) یہ کر سکتے ہیں کہ ایسے بچے جن کے باپ غریب ہیں اور زکوٰۃ لینے کے مستحق ہیں، زکوٰۃ کے روپے ان کے ہاتھ میں دے دئیے جائیں، جن سے وہ اپنی فیس ادا کر دیں یا گاڑی کا کرایہ دے دیں، یا ان کو کتابیں خرید کر دی جا سکتی ہیں۔“ (وقار الفتاوی ، جلد 2، صفحہ 398، بزم وقار الدین، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4879
تاریخ اجراء:18 شوال المکرم1447ھ/07 اپریل 2026ء