غلطی سے زیادہ دی گئی زکوٰۃ اگلے سال میں شمار ہوگی؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
غلطی سے زیادہ دی جانے والی زکوٰۃ کو اگلے سال میں شمار کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا کپڑوں کا کاروبار ہے، اور اس کاروبار کو میرے بڑے بھائی دیکھتے ہیں، لیکن ان کا اس میں کوئی شیئر نہیں ہے،وہ تنخواہ پر کام کرتے ہیں، نیز میرے کاروبار کی زکوٰۃ کا سال یکم رمضان المبارک کو مکمل ہوتا ہے، تو میں نے بھائی کو اسی دن کاروبار کا حساب کتاب لگا نے کا کہا، انہوں نے حساب کتاب لگا کر بتایا کہ دس لاکھ زکوٰۃ بن رہی ہے، تو میں نے دس لاکھ زکوٰۃ ادا کردی، پھر دوسرے دن جب مجھے فرصت ملی، تو ہم دونوں بھائیوں نے دوبارہ حساب کتاب کیا اور بغور جائزہ لیا، تو اس میں پتا چلا کہ میرے کاروبار پر آٹھ لاکھ زکوٰۃ بنتی ہے، لہذا اب ایسی صورت میں جو دو لاکھ زائد زکوٰۃ کی نیت سے ادا کئے ہیں، ان کو میں اپنے کاروبار کے اگلے سال کی زکوٰۃ میں شمار کرسکتا ہوں یا نہیں؟
نوٹ: الحمد للّٰہ میں اب بھی صاحب نصاب ہوں، امید ہے اگلے سال بھی نصاب کا مالک ہوں گا۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ نے زکوۃ کی نیت سے جو اضافی رقم دی ہے اسے اگلے سال کی زکوۃ میں شمار کرسکتے ہیں۔ چنانچہ فتاویٰ قاضی خان میں ہے: "رجل ظن ان مالہ خمسمائۃ، فادیٰ زکاۃ خمسمائۃ، ثم ظھر ان مالہ کان اربعمائۃ، کان لہ ان یجعل الزکاۃ من السنۃ الثانیۃ، لان الزیادۃ ان لم تقع زکاۃ، امکن جعلھا تعجیلا، فتجعل تعجیلا" ایک شخص نے گمان کیا کہ اس کا مال پانچ سو ہے، تو اس نے پانچ سو کی زکوٰۃ ادا کردی، پھر ظاہر ہوا کہ اس کا مال چار سو تھا، تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اسے (زائد رقم کو) آئندہ سال کی زکوٰۃ میں شمار کرلے، کیونکہ زائد رقم اگرچہ زکوٰۃ واقع نہیں ہوئی لیکن اس کو ایڈوانس زکوٰۃ بنانا ممکن ہے، لہذا اسے ایڈوانس زکوٰۃ شمار کیا جائے گا۔ (فتاویٰ قاضی خان ج 1، ص 231، مطبوعہ: بیروت)
یونہی بحر الرائق میں ہے: و فی الولوالجیۃ وغیرھا : رجل عندہ اربعمائۃ درھم، فظن ان عندہ خمسمائۃ درھم ، فادیٰ زکاۃ خمسمائۃ، فلہ ان یحتسب الزیادۃ للسنۃ الثانیۃ، لانہ امکن ان تجعل الزیادہ تعجیلا اھ" ولوالجیہ وغیرہ میں ہے: کسی شخص کے پاس چار سو درہم تھے، اس نے گمان کیا کہ اس کے پاس پانچ سو درہم ہیں، اور اس نے پانچ سو کی زکوٰۃ ادا کردی، تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اس زیادتی کو آئندہ سال کی زکوٰۃ میں شمار کرے، کیونکہ اس زیادتی کو ایڈوانس (زکوٰۃ) بنانا ممکن ہے۔ (بحر الرائق ج 2، ص 392، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے: یہ گمان کرکے کہ پانسو روپے ہیں ، پانسو کی زکوٰۃ دی، پھر معلوم ہوا کہ چار ہی سو تھے ، تو جو زیادہ دیا ہے، سال آئندہ میں محسوب کرسکتا ہے۔ (بہار شریعت ج 1، ص 891، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Har-6751
تاریخ اجراء: 13 رمضان المبارک 1446ھ/ 14 مارچ 2025ء