logo logo
AI Search

سونے کی چین میں لگے موتیوں اور نگ پر زکوٰۃ لازم ہوگی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سونے کی چین میں لگے موتیوں اور نگ کی زکوٰۃ کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ گھر میں سونے کی استعمالی چین میں سونے کے علاوہ چند نگ اور موتی بھی لگے ہوئے ہیں، تو کیا اُس چین کی زکوۃ میں اُن موتیوں اور نگ کو بھی شمار کیا جائے گا؟

جواب

جی نہیں! پوچھی گئی صورت میں اُس چین کی زکوٰۃ میں وہ نگ اور موتی شامل نہیں ہوں گے۔

مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق موتی اور جواہر کتنے ہی قیمتی ہوں اگر تجارت کے لیے نہیں ہیں تو اُن پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ سونے کے زیوارات میں خوبصورتی کے لیے جو نگ اور موتی لگائے جاتے ہیں، یہ نگ اور موتی سونے سے جدا ایک الگ حیثیت رکھتے ہیں اور اُس زیور کو استعمال کرنے والے کی طرف سے ان میں نیت تجارت بھی نہیں ہوتی، لہذا ان پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوگی۔

چنانچہ فتاوٰی عالمگیری میں ہے: ”وأما اليواقيت واللآلئ والجواهر فلا زكاة فيها، وإن كانت حليا إلا أن تكون للتجارة“ یعنی یاقوت، ہیرے اور جواہرات میں زکوٰۃ لازم نہیں، اگرچہ ان کے زیورات ہوں، ہاں اگر یہ چیزیں تجارت کے لیے ہوں تو پھر زکوٰۃ لازم ہوگی۔ (فتاوٰی عالمگیری، کتاب الزکاۃ، ج 01، ص 180، دار الفكر، بيروت)

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: ”(لازکاۃ فی اللآلی والجواھر) وان ساوت الفا اتفاقاً (الاان تکون للتجارۃ)“ یعنی موتی اور جواہرات اگرچہ ہزار درہم کے برابر ہوں، بالاتفاق اُن پر زکوٰۃ لازم نہیں، مگر یہ کہ یہ تجارت کے لیے ہوں۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، کتاب الزکاۃ، ج 03، ص 230، پشاور)

بہارِ شریعت میں ہے: ”موتی اور جواہر پر زکاۃ واجب نہیں، اگرچہ ہزاروں کے ہوں۔ ہاں اگر تجارت کی نیّت سے لیے تو واجب ہو گئی ۔“ (بہارِ شریعت، ج 01، حصہ 05، ص 883، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-14031
تاریخ اجراء: 09 رجب المرجب 1447ھ/30 دسمبر 2025ء