زکوٰۃ کی ادائیگی میں کس ریٹ کا اعتبار ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
زکوۃ کی ادائیگی میں کس ریٹ کا اعتبار ہوگا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں صاحبِ نصاب ہوں، میں نے اس رمضان میں اپنی ساری زکوٰۃ کا حساب کیا، تو وہ تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار روپے بنی ہے، لیکن میں رمضان میں صرف 80 ہزار روپے ہی ادا کر سکا، اور 40 ہزار روپے باقی رہ گئے، اب میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ باقی 40 ہزار روپے زکوٰۃ ادا کرتے وقت میں رمضان میں سونے (گولڈ) کے ریٹ کو سامنے رکھوں، یا موجودہ وقت کے ریٹ کے مطابق دوبارہ حساب کروں؟ رہنمائی فرمائیں۔
جواب
صاحبِ نصاب شخص کے مالِ زکوٰۃ پر اسلامی مہینے کے اعتبار سے جس دن سال مکمل ہو، زکوٰۃ کی ادائیگی میں اُسی دن کی قیمت اور ریٹ کا اعتبار ہوتا ہے، خواہ وہ کسی بھی دن میں زکوۃ ادا کرے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کی زکوۃ کا سال رمضان میں پورا ہوا تھا، اور سال پورا ہونے کے وقت کے حساب سے آپ کے اموال زکوۃ پر کل زکوۃ 1 لاکھ 20 ہزار روپے بنتی تھی، جس میں سے آپ نے 80 ہزار ادا کر دی تھی اور 40 ہزار باقی ہے، تو اب زکوۃ صرف 40 ہزار ہی دینی لازم ہو گی، اب بقیہ کی ادائیگی کے لیے نئے ریٹ کا اعتبار نہیں ہوگا۔
نوٹ: یہ یاد رہے کہ! جب سال پورا ہو، تو فوراً مکمل زکوۃ کی ادائیگی ضروری ہوجاتی ہے، اس میں بلاوجہ تاخیر کرنے سے انسان گنہگار ہوتاہے، جس سے توبہ کرنا لازم ہے۔ لہذا اگر آپ کے نصاب کا سال رمضان میں مکمل ہوچکا تھا، تو جس تاریخ کو، جس وقت مکمل ہوا تھا، اس وقت ساری زکوۃ ادا کرنا لازم تھی، بلاوجہ شرعی تاخیر کرنے سے گناہ ہوا، جس سے توبہ لازم ہے۔ البتہ! اگر آپ کے اموال پر زکوۃ کا سال رمضان میں مکمل نہیں ہوا تھا، بلکہ آپ نے ایڈوانس میں زکوۃ دی تھی، تو اس صورت میں سال مکمل ہونے تک تاخیر کرنے سے گناہ نہیں ہوگا، نیز اب جس دن اموال زکوۃ پر سال پورا ہوگا ، اسی دن کے ریٹ کا حساب ہوگا، اور اسی دن دوبارہ حساب کر کے دیکھنا ہوگا، کہ اب آپ پر کتنی زکوۃ ادا کرنا فرض بنتی ہے، اگر تو جتنی ادا کر چکے ہوں، اتنی ہی بنتی ہے تو ٹھیک، ورنہ جتنی کم بن رہی ہو، اس کمی کو فورا پورا کرنا لازم ہوگا۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے "تعتبر القيمة عند حولان الحول ۔۔۔ اذا كان له مائتا قفيز حنطة للتجارة تساوی مائتی درهم فتم الحول ثم زاد السعر أو انتقص فان أدى من عينها أدى خمسة أقفزة و ان أدى القيمة تعتبر قيمتها يوم الوجوب" ترجمہ: (زکوٰۃ کی ادائیگی میں قمری) سال مکمل ہونے کے وقت کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا ۔۔۔ (مثال کے طور پر) کسی شخص کے پاس تجارت کے لیے دو سو بوری گندم تھی، جو دو سو درہم کے برابر تھی، اس پر سال مکمل ہوگیا۔ پھر قیمت بڑھ گئی یا کم ہوگئی، تو اگر اس شخص نے اُن (گندم کی بوریوں) کے ذریعے ہی زکوٰۃ نکالنی ہے، تو پانچ بوریاں ادا کرے گا، اور اگر قیمت کے ذریعے نکالے، تو جس دن زکوٰۃ لازم ہوئی تھی (یعنی سال مکمل ہوا تھا،) اس دن کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الزکوٰۃ، الفصل الثانی فی العروض، جلد 1، صفحہ 179، دارالفكر، بیروت)
مراقی الفلاح میں ہے: ”إن أدى من قيمته تعتبر قيمته يوم الوجوب و هو تمام الحول عند الإمام“ ترجمہ: اگر قیمت سے زکوٰۃ ادا کرے گا تو زکوٰۃ واجب ہونے کے دن کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک وہ نصاب کا سال مکمل ہونے کا دن ہے (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، کتاب الزکوٰۃ، صفحہ 363، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
شیخ الاسلام و المسلمین، امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: قیمت میں نرخ بازار آج کا معتبر نہ ہوگا جس دن ادا کررہے ہیں، بلکہ روزِ وجوب کا مثلاً اُس دن نیم صاع گندم کی قیمت دو آنے تھی آج ایک آنہ ہے تو ایک آنہ کافی نہ ہوگا۔ دو آنے دینا لازم، اور ایک آنہ تھی اب دو آنے ہوگئی تو دو آنے ضرور نہیں، ایک آنہ کافی۔ ( فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 531، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
زکوٰۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرنے کے سبب وہ گنہگار بھی ہوا، اس سے توبہ بھی لازم ہے، کیونکہ زکوٰۃ لازم ہونے کے بعد فوراً ادا کرنا لازم ہے، بلا عذر تاخیر کرنا نا جائز و گناہ ہے۔ امام اہلسنت ، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: اب تک جو ادا میں تاخیر کی، بہت زاری کے ساتھ اُس سے توبہ فرض ہے اور آئندہ ہر سال تمام پر فوراًادا کی جائے۔ ( فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 129، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایڈوانس زکوٰۃ ادا کی، تو اگر ادا کی ہوئی زکوٰۃ کم بن رہی ہو، تو کمی کو پورا کیا جائے گا، چنانچہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: حولانِ حول (یعنی زکوٰۃ کا سال پورا ہو جانے) کے بعد ادائے زکوٰۃ میں اصلاً تاخیر جائز نہیں، جتنی دیر لگائے گا، گنہگار ہوگا۔ ہاں پیشگی دینے میں اختیار ہے کہ بتدریج دیتا رہے، سالِ تمام پر حساب کرے، اُس وقت جو واجب نکلے، اگر پورا دے چکا، بہتر اور کم گیا ہے، تو باقی فوراً اب دے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 202، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4913
تاریخ اجراء: 03 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 21 اپریل 2026ء