logo logo
AI Search

بیرون ملک کاروبار کی زکوۃ کس حساب سے دیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بیرون ملک کاروبار کرنے والا کس ملک کے حساب سے زکوٰۃ دیں گے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ایک شخص پاکستان کا رہائشی ہے اور اس کے بیو ی بچے بھی پاکستان میں ہیں، لیکن وہ  عرب شریف میں کاروبار کرتا ہے اور اس کا سارا کاروباری مال و اسباب عرب شریف میں ہے۔ اب ایک ہفتہ کے بعد اس کے مال پر زکوۃ کا سال مکمل ہونے والا ہے، تو سوال یہ ہے کہ زکوٰۃ کا سال مکمل ہونے پر وہ کس ملک کے نصاب اور قیمت کے مطابق زکوٰۃ ادا کرے گا ؟ پاکستان کے نصاب کے مطابق یا عرب شریف کے نصاب کے مطابق  ؟   مبشر (فیصل آباد)  

جواب

پوچھی گئی صورت میں مذکورہ شخص سال مکمل ہونے پر عرب شریف کے ریٹ کے مطابق چاندی کے نصاب کی قیمت معلوم کرکے زکوۃ اداکرےگا ۔

شریعت اِسلامیہ نے زکوٰۃ کا نصاب سونے اور چاندی کے وزن سے مقرر کیا ہے، جو کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک ہی ہے یعنی کسی ملک کے بدلنے سے نصاب کے وزن میں تبدیلی نہیں ہوگی، بلکہ وہ ایک ہی رہے گا، جو سونے کے اعتبار سے ساڑھے سات (7.5) تولے (تقریباً 87.48 گرام) اور چاندی  کے اعتبار سے ساڑھے باون (52.5) تولے (تقریباً 612.36 گرام) ہے، البتہ ہر ملک میں چونکہ سونے اور چاندی کی قیمتیں کرنسی (روپیہ، ریال، ڈالر) کے مختلف ہونے کی وجہ سے الگ الگ ہوتی ہیں، اس لیے رقم کے حساب سے نصاب ہر ملک میں الگ ہوگا، مثلا پاکستان میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت پاکستانی روپوں میں کچھ اور ہوگی، جبکہ عرب شریف میں اتنی ہی چاندی کی قیمت ریال میں مختلف ہوگی۔اب جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ زکوۃ کس ملک کی قیمت کے اعتبار سے ادا کی جائے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں مال والی جگہ کا اعتبار ہوتا ہے یعنی جس جگہ مال موجود ہے، تو وہاں کی قیمت کے  اعتبار سے زکوۃ ادا کرنی ہوگی۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں جب مذکور ہ شخص کا مال عرب شریف میں ہے اور اس پر زکوۃ کی شرائط پائی جاتی ہیں، تو سال مکمل ہونے پر وہ عرب شریف کے ریٹ کے مطابق چاندی کے نصاب کی قیمت معلوم کرکے زکوۃ  اداکرےگا۔

سونے کے نصاب کے متعلق تحفۃ الفقہاء میں ہے:

”اما الذھب المفرد ان یبلغ نصابا و ذلک عشرون مثقالا ففیہ نصف مثقال و ان کان اقل من ذلک فلا زکاۃ فیہ“

ترجمہ: ”بہر حال صرف سونا ہو، تو اگر وہ نصاب کو پہنچے، تب اس میں زکوٰۃ فرض ہو گی اور سونے کا نصاب بیس مثقال(یعنی ساڑھے سات تولہ) سونا ہے اور اگر سونا اس سے کم ہو، تو اس میں زکوٰۃ فرض نہیں ہو گی۔ (تحفۃ الفقھاء، جلد 1، صفحہ 266، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

اور چاندی کے نصاب کے متعلق د رمختار میں ہے:

’’نصاب الذھب عشرون مثقالا و الفضۃ مائتا درھم“

یعنی سونے کا نصاب بیس مثقال اور چاندی کا دوسو درہم ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 267، مطبوعہ کوئٹہ )

وقار الفتاوی میں ہے: ”سونے کی مقدار ساڑھے سات تولے اور چاندی کی مقدار ساڑھے باون تولے ہے۔ جس کے پاس صرف سونا ہے، روپیہ پیسہ، چاندی اور مالِ تجارت بالکل نہیں، اس پر سوا سات تولے تک سونے میں زکوٰۃ فرض نہیں ہے، جب پورے ساڑھے سات تولہ ہو گا، تو زکوٰۃ فرض ہو گی، اسی طرح جس کے پاس صرف چاندی ہے، سونا، روپیہ پیسہ اور مالِ تجارت بالکل نہیں ہے، اس پر باون تولے چاندی میں بھی زکوٰۃ فرض نہیں ہے، جب ساڑھے باون تولہ پوری ہو یا اس سے زائد ہو، تو زکوٰۃ فرض ہوگی۔ (وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 384 تا 385، مطبوعہ بزم وقار الدین)

زکوٰۃ کی ادائیگی میں مال والی جگہ کا اعتبار ہوتا ہے۔ جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے:

’’زکاۃ المال فحیث المال فی الروایات کلھا“

یعنی تمام روایات کے مطابق مال کی زکوٰۃ ادا کرنے میں مال والی جگہ کا اعتبار ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 75، مطبوعہ بیروت)

اسی طرح درمختار میں ہے: ’’يقوم في البلد الذي المال فيه“ یعنی زکوٰۃ کی ادئیگی کے لیے مالک اس جگہ کی قیمت لگائے گا، جہاں پر مال موجود ہے۔

در مختار کی مذکورہ عبارت پر مثال بیان کرتے ہوئے علامہ ابن عابدین شامی دمشقی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:،

’’فلو بعث عبدا للتجارة في بلد آخر يقوم في البلد الذي فيه العبد“

یعنی اگر کسی نے اپنا تجارتی غلام دوسرے شہر بھیجا، تو اب اس غلام کی قیمت اس شہر کے مطابق لگائی جائے گی، جس میں غلام موجود ہے۔ (در مختار مع ردالمحتار، جلد 3، صفحہ 251، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: قیمت اس جگہ کی ہونی چاہیے، جہاں مال ہے۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 908، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9894
تاریخ اجراء:11 شوال المکرم 1447ھ/31 مارچ 2026 ء