logo logo
AI Search

مدرسے کے بچوں کو زکوٰۃ دینا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مدرسے میں پڑھنے والے بچوں کو زکوٰۃ دینا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

مدرسے میں جو بچے پڑھتے ہیں، ان کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

مدرسے میں پڑھنے والے جو بچے مستحقِ زکوٰۃ ہوں مثلاً شرعی فقیر ہوں اور سید و ہاشمی بھی نہ ہوں، اورنہ زکوۃ اداکرنے والے کی اولادسے ہوں، انہیں زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، البتہ! جو بچے نابالغ ہوں، انہیں زکوٰۃ دینے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے والد بھی مستحقِ زکوٰۃ ہوں، لہذا جو بچے سید یا ہاشمی ہیں، یاوہ زکوۃ اداکرنے والے کی اولادسے ہیں، یا خود صاحبِ نصاب ہیں یا نابالغ بچےخود تو مستحقِ زکوٰۃ ہیں لیکن ان کے والد مستحقِ زکوٰۃ نہیں، تو انہیں زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔

در مختار میں ہے ”للوكيل أن يدفع لولده الفقير“ ترجمہ: وکیل کے لئے جائز ہے کہ وہ زکوٰۃ اپنے فقیر بیٹے کو دے۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے

”إذا كان ولدہ صغيرا فلا بد من كونه ھو فقيرا أيضا لأن الصغير يعد غنيا بغنى أبيه“

ترجمہ: جب اس کا بچہ نابالغ ہو تو خود اس(والد) کا بھی فقیر ہونا ضروری ہے، کیونکہ باپ کے غنی ہونے کی وجہ سے چھوٹا بچہ بھی غنی شمار ہوتا ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 3، ص 224، مطبوعہ: کوئٹہ)

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے

”ان الطفل یعد غنیا بغنی ابیہ، بخلاف الکبیر فانہ لایعد غنیا بغنی ابیہ ولاالاب بغنی ابنہ ولاالزوجۃ بغنی زوجھا ولا الطفل بغنی امہ“

ترجمہ: بچے کو اُس کے باپ کے غنی ہونے کی بنیاد پر غنی شمار کیا جائے گا، بالغ کا حکم اِس کے برخلاف ہے کہ اُسے باپ کے غنی ہونے کی وجہ سے غنی نہیں سمجھا جائے گا، اور نہ ہی باپ کو اِس بالغ بیٹے کی وجہ سے غنی قرار دیا جائے گا، نہ بیوی کو شوہرکی وجہ سے، اور نہ نابالغ بچے کو اُس کی ماں کے غنیہ ہونے کی وجہ سے (غنی سمجھا جائے گا)۔“ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 3، ص 350، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی ہندیہ میں ہے

”ولا يدفع إلى أصله، وإن علا، وفرعه، وإن سفل كذا في الكافي“

ترجمہ: اپنی اصل اگرچہ کتنی ہی اوپر ہو اور اپنی فرع اگرچہ کتنی ہی نیچی ہو، انہیں زکوٰۃ نہیں دے سکتا، جیسا کہ کافی میں ہے۔ (فتاوی ہندیہ، ج 1، ص 188، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے ”مصرفِ زکوٰۃ ہر مسلمان حاجتمند ہے جسے اپنے مال مملوک سے مقدار نصاب فارغ عن الحوائج الاصلیہ پر دسترس نہیں بشرطیکہ نہ ہاشمی ہو۔۔۔ اور نصاب مذکور پر دسترس نہ ہونا چند صورت کو شامل: ایک یہ کہ سرے سے مال ہی نہ رکھتا ہو اسے مسکین کہتے ہیں۔ دوم مال ہو مگر نصاب سے کم، یہ فقیر ہے۔ سوم نصاب بھی ہو مگر حوائجِ اصلیہ میں مستغرق، جیسے مدیون۔۔۔ بالجملہ مدار کار حاجتمندی بمعنی مذکور پر ہے، تو جو نصاب مزبور پر دسترس رکھتا ہے ہر گز زکوٰۃ نہیں پا سکتا۔“ (فتاوی رضویہ، ج  10، ص 109، 110، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4871
تاریخ اجراء:13 شوال المکرم 1447ھ/02 اپریل 2026ء