logo logo
AI Search

فصل کے اخراجات نکالنے کے بعد کچھ نہ بچے تو عشر کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فصل کے اخراجات نکالنے کے بعد کچھ بھی نہ بچے تو کیا پھر بھی عشر ہوگا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر فصل کی پیداوار کے تمام اخراجات (بیج، کھاد، زرعی ادویات، پانی وغیرہ) اتنے زیادہ ہوں کہ فصل کے بعد زمیندار یا کسان کے لیے کچھ باقی نہ رہے، تو کیا اس صورت میں بھی عشر لازم ہوگا؟

جواب

قوانینِ شرعیہ کے مطابق فصل کی کل پیداوار پر عشر یا نصف عشر واجب ہوتا ہے، اس پر ہونے والے اخراجات مائنس نہیں کیے جائیں گے، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ ہوں، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں بیج، کھاد اور زرعی ادویات وغیرہ کے اخراجات اگرچہ پیداوار سے بڑھ جائیں اور زمیندار یا کسان کو کچھ بھی نہ بچے، تب بھی پوری پیداوار پر عشر لازم ہوگا۔

ہدایہ وفتح القدیر میں ہے:

”(لایحتسب فیہ اجر العمال ونفقۃ البقر) وکری الانھار واجرۃ الحارس وغیر ذالک یعنی لا یقال بعدم وجوب العشر فی قدر الخارج الذی بمقابلۃ المئونۃ بل یجب العشر فی الکل“

ترجمہ: مزدوروں کی اجرت، بیل کا چارہ، نہر کی کھدائی کا خرچہ، چوکیدار کی اجرت اور اس کے علاوہ دیگر اخراجات محسوب نہیں کیے جائیں گے، یعنی یہ نہیں کہا جائے گا کہ عشر پیداوار کی اُس مقدار پر واجب نہیں جو مشقت و خرچ کے مقابلے میں ہو، بلکہ کل پیداوار پر عشر لازم ہوگا۔ (الھدایۃ مع فتح القدیر، جلد 2، صفحہ 194، مطبوعہ کوئٹہ)

علامہ علاؤ الدین ابو بکر بن مسعود کاسانی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 587ھ/1191ء) لکھتے ہیں:

”فما سقي بماء السماء، أو سقي سيحا ففيه عشر كامل، و ما سقي بغرب، أو دالية، أو سانية ففيه نصف العشر، و الأصل فيه ما روي عن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم أنه قال: ما سقته السماء ففيه العشر و ما سقي بغرب، أو دالية، أو سانية ففيه نصف العشر“

ترجمہ: جو زمین آسمان یا نہر کے پانی سے سیراب کی جائے، ا س میں مکمل عشر واجب ہے، اور جو زمین ڈول، چرسے یا چوپائے سے سیراب کی جائے، اس میں آدھا عشر (یعنی بیسواں حصہ) واجب ہے۔ اس کی اصل رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی وہ حدیث ہے جس میں فرمایا: جس کھیتی کو آسمان (بارش کا پانی) سیراب کرے اُس میں عشر ہے، اور جس کو ڈول، چرسے یا چوپائے سے سیراب کیا جائے، اُس میں آدھا عشر ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 62، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”جس چیز میں عشر یا نصف عشر واجب ہوا، اس میں کل پیداوار کا عشر یا نصف عشر لیا جائے گا، یہ نہیں ہوسکتا کہ مصارفِ زراعت، ہل بیل، حفاظت کرنے والے اور کام کرنے والوں کی اجرت یا بیج وغیرہ نکال کر باقی کا عشر یا نصف عشر دیا جائے۔“ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 918، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9890
تاریخ اجراء:11 شوال المکرم 1447ھ/31 مارچ 2026 ء