logo logo
AI Search

جانوروں کے لیے خریدے گئے چارے پر زکوٰۃ ہوگی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تجارت کے جانوروں کے لیے خریدے گئے چارے پر زکوٰۃ کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا کیٹل فارم ہے جس میں وہ بیچنے کی نیت سے خریدے ہوئے سینکڑوں جانور رکھتا ہے پھر بیچ دیتا ہے، چونکہ جانور کثیر تعداد میں ہوتے ہیں تو ان کے چارے میں استعمال ہونے والی چیزیں بھی بہت ساری خرید کر رکھنی پڑتی ہیں، کیونکہ بعض چیزیں مخصوص موسم میں ہی دستیاب ہوتی ہیں، لہذا پہلے سے ہی انہیں خرید کر رکھنا پڑتا ہے، زید نے تقریبا چالیس لاکھ کا اسی طرح کا مال خرید کر رکھا ہے کیا اس مال پر بھی زکوۃ لازم ہوگی؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں زکوۃ کی شرائط کی موجودگی میں صرف جانوروں پر زکوۃ لازم ہوگی کہ جب وہ بیچنے کی نیت سے خریدے ہیں تو وہ مال تجارت بنیں گے اور مال تجارت پر زکوۃ لازم ہوتی ہے۔ ان کے چارے کیلئے جو مال خرید کررکھا ہے، اس پر زکوۃ لازم نہیں ہوگی، کیونکہ چارے کا سامان مال تجارت نہیں بنے گا کہ یہ بیچنے کیلئے نہیں خریدا گیا، جس طرح نان بائی لکڑیاں یا نمک خرید کر رکھتا ہے تو فقہاء نے ان چیزوں پر زکوۃ لازم نہیں کی، کیونکہ یہ چیزیں بیچنے کیلئے نہیں خریدی جاتیں۔

بدائع الصنائع، رد المحتار، فتاوی ہندیہ میں ہے: ”و اللفظ للھندیۃ“ المالك لو اشترى طعاما لنفقة عبيد التجارة لا تجب فيه الزكاة كذا فی محيط السرخسی“ ترجمہ: مالک نے اگر تجارت کے غلاموں کے نفقے کیلئے کھانا خریدا تو اس پر زکوۃ لازم نہیں ہے، اسی طرح محیط سرخسی میں ہے۔ (فتاوی ہندیہ جلد 1، صفحہ 180، مطبوعہ کوئٹہ)

محیط برہانی میں ہے: ”الخباز إذا اشترى ملحا أو حطبا للخبز فلا زكاة فيه، لأن معنى التجارة لا يتحقق فی عينه لأنه يصير مستلهكا مستھلکا من كل وجه، فما يأخذ من المال يكون عوضا عن عمله لا عن الحطب و الملح، فلا يصير مال التجارة“ ترجمہ: نان بائی نے روٹیاں بنانے کیلئے جو نمک یا لکڑیاں خریدیں، ان پر زکوۃ لازم نہیں ہے، کیونکہ تجارت کا معنی ان کے عین میں متحقق نہیں ہوتا، اس لئے کہ یہ چیزیں من کل وجوہ ہلاک ہوجائیں گی، جو کچھ مال ملے گا وہ نان بائی کے کام کے بدلے میں ہوگا، لکڑیوں اور نمک کے بدلے میں نہیں ہوگا، لہذا یہ مال تجارت نہیں بنے گا۔ (محیط برہانی جلد 2، صفحہ 249، مطبوعہ بیروت)

بہار شریعت میں ہے: گھوڑے کی تجارت کرتا ہے، جھول اور لگام اور رسیاں وغیرہ اس لیے خریدیں کہ گھوڑوں کی حفاظت میں کام آئیں گی تو اُن کی زکاۃ نہیں اور اگر اس لیے خریدیں کہ گھوڑے ان کے سمیت بیچے جائیں گے تو ان کی بھی زکاۃ دے۔ نان بائی نے روٹی پکانے کے لیے لکڑیاں خریدیں یا روٹی میں ڈالنے کو نمک خریدا تو ان کی زکاۃ نہیں اور روٹی پر چھڑکنے کو تِل خریدے تو تِلوں کی زکاۃ واجب ہے۔ (بھار شریعت جلد 1، حصہ 5، صفحہ 908، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
مصدق: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری
فتویٰ نمبر: Gul-3154
تاریخ اجراء: 09 رمضان المبارک 1445ھ / 20 مارچ 2024ء