زکوٰۃ کی رقم سے بھانجوں اور بھتیجیوں کو تعلیم دینا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
زکوٰۃ کی رقم بھانجوں، بھتیجیوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا میں اپنی زکوٰۃ کی رقم اپنے بھانجوں، بھتیجیوں وغیرہ کی تعلیم پر خرچ کر سکتا ہوں، جبکہ ان کی عمریں تقریباً اٹھارہ سے بیس سال کے درمیان ہیں، اور ان کے والدین صاحبِ نصاب ہیں؟ اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جواب
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر آپ کے ان بھانجوں اور بھتیجیوں کے والدین صاحبِ ثروت و استطاعت ہیں، تو پھر آپ ان کے بچوں پر زکوٰۃ کی رقم کیوں خرچ کر رہے ہیں ؟ زکوٰۃ کی رقم کا ایک خاص مصرف ہے، اور اس کی ایک خاص حکمت ہے، کہ معاشرے میں غریب اور نادار لوگوں کی مدد ہوسکے، جس کے لیے شریعت نے شرعی فقیر وغیرہ کا معیار مقرر کیا ہے، پس جن بچوں کے اپنے والدین صاحبِ ثروت ہیں، تو ان بچوں پر زکوٰۃ خرچ کرنے کی بجائے، ان لوگوں پر خرچ کرنی چاہیے، کہ جو لوگ اپنی روز مرہ کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کر پارہے، میڈیسن وغیرہ بھی ان کے پاس نہیں ہیں، اور بہت سارے سفید پوش اس طرح کے والدین ہیں، کہ جو لوگوں کو اپنی ضروریات بتاتے بھی نہیں ہیں، لیکن ان کے بچے غربت کی وجہ سے نہ تعلیم حاصل کر پاتے ہیں، نہ ہی ان کے گھر کا انتظام مناسب طریقے سے ہو پاتا ہے، لہٰذا سب سے پہلے اس بات پر آپ ضرور غور کریں، اور اپنے آس پاس ایسے لوگوں کو زکوٰۃ کی رقم دیں، جو بنیادی ضرورتیں بھی پوری کرنے سے قاصر ہیں۔
باقی جہاں تک آپ کے سوال کا جواب ہے، تو اس کا حکمِ شرعی یہ ہے کہ پوچھی گئی صورت میں اگروہ شرعاً مستحقِ زکوٰۃ ہوں، یعنی نہ ہاشمی ہوں اور نہ خود صاحبِ نصاب ہوں، اور آپ اپنی زکوٰۃ کی رقم سے اپنے بھانجوں، بھتیجیوں وغیرہ کے لیے کتابیں، اسکول بیگ یا دیگر تعلیمی ضروریات کی اشیا خرید کر انہیں مالک بنا دیں، تو ان اشیاکی جتنی مارکیٹ ویلیو ہوگی، اتنی مقدار میں زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، کیونکہ یہ بچے محض اپنے والدین کے صاحبِ نصاب ہونے کی وجہ سے شرعاً غنی شمار نہیں ہوں گے۔
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”عوض زر زکوٰۃ کے محتاجوں کو کپڑے بنا دینا، انہیں کھانا دے دینا جائز ہے اور اس سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، خاص روپیہ ہی دینا واجب نہیں، مگر ادائے زکوٰۃ کے معنی یہ ہیں کہ اس قدر مال کا محتاجوں کو مالک کر دیا جائے۔ “ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 70، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک جگہ فرماتے ہیں: ”زکوٰۃ میں روپے وغیرہ کے عوض بازار کے بھاؤ سے اس قیمت کا غلہ مکا وغیرہ محتاج کو دے کر بہ نیت زکوٰۃ مالک کر دینا جائز و کافی ہے، زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، مگر جس قدر چیز محتاج کی ملک میں گئی بازار کے بھاؤ سے جو قیمت اس کی ہے وہی مجرا ہوگی، بالائی خرچ محسوب نہ ہوں گے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 69 - 70، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
علامہ رضی الدین محمد بن محمد سرخسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”و لا يجوز صرفها إلى ولد غني إذا كان صغيرا لأنه يعد غنيا بمال أبيه عرفا إن كان فقيرا كبيرا جاز لأنه لا يعد غنيا بمال أبيه“ ترجمہ: اور صدقات واجبہ کو کسی غنی شخص کے بچے پر خرچ کرنا جائز نہیں جبکہ وہ نابالغ ہو؛ کیونکہ عرفاً وہ اپنے باپ کے مال کی وجہ سے غنی شمار ہوتا ہے، اور اگر وہ بچہ بالغ فقیر ہو تو جائز ہے؛ کیونکہ وہ اپنے باپ کے مال کی وجہ سے غنی شمار نہیں کیا جاتا۔ (المحیط الرضوی، جلد 1، صفحہ 552، دار الكتب العلمية، بیروت)
سادات اور بنی ہاشم کو زکوۃ دینےکے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’زکوۃ ساداتِ کرام و سائر بنی ہاشم پر حرامِ قطعی ہے، جس کی حرمت پر ہمارے ائمۂ ثلاثہ، بلکہ ائمۂ مذاہبِ اربعہ رضی اللہ عنھم اجمعین کا اجماع قائم۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 99، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5026
تاریخ اجراء: 03 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 20 مئی 2026ء