زکوٰۃ کا وکیل زکوٰۃ کی رقم اپنے والدین کو دے سکتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
زکوٰۃ کے وکیل کا زکوٰۃ کی رقم اپنے والدین کو دینا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک شخص کو کسی نے زکوۃ کے پیسے دیے اور کہا کہ آپ کو اختیار ہے کسی بھی ضرورت مند کو دے دینا تو کیا وہ شخص اپنے والدین میں سے کسی کو یا گھر کے کسی اور فرد کو جو مستحق زکوۃ ہے، اسے وہ رقم دے سکتا ہے؟
جواب
اگر واقعی زکوۃ دینے والے نے کسی کی تخصیص نہیں کی، بلکہ مطلقاً کسی کو بھی دینے کا کہا ہے، تو ایسی صورت میں اپنے والدین، یا گھرکے کسی اور فرد کو بھی زکوۃ کی رقم دے سکتے ہیں، بشرطیکہ جسے دے رہے ہیں، وہ مستحق زکوۃ ہو، یعنی فقیر شرعی اور غیر سید اور غیر ہاشمی ہو۔
جوہرہ نیرہ میں ہے "ويجوز للوكيل بأداء الزكاة أن يدفع لأبيه وزوجته إذا كانوا فقراء كذا في الإيضاح" ترجمہ: "اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے وکیل کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے باپ اور اپنی بیوی کو زکوٰۃ دے دے، بشرطیکہ وہ فقیر ہوں، ایسا الایضاح میں ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، کتاب الزکاۃ، ج 1، ص 288، مطبوعہ: لاہور، ج 1، ص 115، المطبعة الخيرية)
فتاوی عالمگیری میں ہے "ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب" ترجمہ: بنی ہاشم یعنی آلِ علی، آلِ عباس، آلِ جعفر، آلِ عقیل اور آلِ حارث بن عبد المطلب کو زکوۃ نہیں دی جا سکتی۔ (فتاوى عالمگیری، جلد 01، صفحہ 189، دار الفکر، بیروت)
بہار شریعت میں ہے "وکیل کو اختیار ہے کہ مالِ زکاۃ اپنے لڑکے یا بی بی کو دیدے جب کہ یہ فقیر ہوں اور اگر لڑکا نابالغ ہے تو اُسے دینے کے لیے خود اس وکیل کا فقیر ہونا بھی ضروری ہے، مگر اپنی اولاد یا بی بی کو اس وقت دے سکتا ہے، جب مؤکل نے اُن کے سوا کسی خاص شخص کو دینے کے لیے نہ کہہ دیا ہو ورنہ انھیں نہیں دے سکتا۔" (بہار شریعت، ج 1، حصہ 5، ص 888، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5050
تاریخ اجراء: 04 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 21 مئی 2026ء