logo logo
AI Search

گھر کے استعمال والے پھلوں پر بھی عشر ہوگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

زرعی زمین پر پھلدار درختوں کے پھل بیچنے کی نیت نہ ہو تو عشر کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میدانی علاقوں میں زمیندار چند پھل دار درخت مثلاً مالٹا، امرود، جامن وغیرہ کے اپنی زمین کے کناروں وغیرہ پر لگاتے ہیں، نیت یہ ہوتی ہے کہ اس سے گھر والے، بچے کھائیں گے اور دوستوں رشتے داروں کو دیں گے اور یہ بیچنے نہیں ہیں تو کیا اس صورت میں ان کا عشر ادا کرنے کا حکم ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمادیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں پھلدار درختوں کے پھلوں کا عشر لازم ہوگا۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ

قوانین شرعیہ کی رُو سےعشری زمین سے ایسی چیز پیدا ہو، جس کے اگانے سے زمین سے منافع حاصل کرنا مقصود ہو تو صرف اتنی بات سے ہی اس کا عشر ادا کرنا لازم ہوجاتا ہے، بیچنے کی نیت ہونے کی شرط نہیں ہے، اور دریافت کی گئی صورت میں بھی چونکہ پھل دار درختوں کی زراعت سے مقصود زمین کے منافع حاصل کرنا ہے، لہذا زمینداروں پر مذکورہ پھلوں کا عشر ادا کرنا لازم ہے۔

المبسوط للسرخسی میں ہے ”و العشر إنما يجب فيما يقصد به استغلال الأراضي عادة“ ترجمہ: جس سے عادۃً زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود ہو اس میں عشر واجب ہوتا ہے۔ (المبسوط للسرخسی، ج 2، ص 216، دار المعرفۃ، بیروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے ”و يجب العشر عند أبي حنيفة رحمه اللہ تعالى في كل ما تخرجه الأرض من الحنطة و الشعير و الدخن و الأرز، و أصناف الحبوب والبقول والرياحين و الأوراد و الرطاب و قصب السكر و الذريرة و البطيخ و القثاء و الخيار و الباذنجان و العصفر، و أشباه ذلك مما له ثمرة باقية أو غير باقية قل أو كثر هكذا في فتاوى قاضي خان“ ترجمہ: امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جو چیزیں زمین سے پیداوار میں حاصل ہوتی ہیں جیسے گندم، جو، باجرہ، چاول اور ہر طرح کے دانے اور سبزیاں اور پھول، کجھوریں، گنا، جوار، خربوزہ، ککڑی، بینگن، کسم وغیرہ، وہ چیزیں جن کے پھل باقی رہیں یا نہ رہیں، تھوڑے ہوں یا بہت ہوں (عشر واجب ہو گا) ایسے ہی فتاوی قاضی خان میں ہے۔ (فتاوی ہندیہ، ج 1، ص 186، کوئٹہ)

رد المحتار میں ہے ”و بيع ما يقطعه ليس بقيد ولذا أطلقه قاضي خان“ ترجمہ: جو کاٹا جائے اسے بیچنے کی قید ضروری نہیں اسی لئے امام قاضی خان نے اسے مطلقاً ذکر کیا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 3، ص 316، کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے عشری زمین سے ایسی چیز پیدا ہوئی جس کی زراعت سے مقصود زمین سے منافع حاصل کرنا ہے تو اُس پیداوار کی زکاۃ فرض ہے اور اس زکاۃ کا نام عشر ہے یعنی دسواں حصہ کہ اکثر صورتوں میں دسواں حصہ فرض ہے، اگرچہ بعض صورتوں میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ لیا جائے گا۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 5، ص 916، مکتبۃ المدینہ)

بہار شریعت میں ہے گیہوں، جَو، جوار، باجرا، دھان اور ہر قسم کے غلّے اور السی، کسم، اخروٹ، بادام اور ہر قسم کے میوے، روئی، پھول، گنا، خربزہ، تربز، کھیرا، ککڑی، بیگن اور ہر قسم کی ترکاری سب میں عشر واجب ہے، تھوڑا پیدا ہو یا زیادہ۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 5، ص 918، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابوحفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-0364
تاریخ اجراء: 17 رمضان المبارک 1443ھ / 19 اپریل 2022ء