واجب عشر ادا کرنے کے بعد زکوٰۃ لازم رہے گی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جو شخص عشر نکالنے کے بعد صاحب نصاب نہ رہے، اس پر زکوٰۃ کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کئی فصلوں کاعشر دینا ذمے پر باقی ہو، جسے منہا کیا جائے، تو بندہ صاحب نصاب نہ رہے، تو کیا اس پر زکوٰۃ لازم ہوگی؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں اگر اتنا عشر ادا کرنا ذمے پر باقی ہو کہ اسے منہا کرنے کے بعد بندہ صاحبِ نصاب نہ رہے، تو اس پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی۔
اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ قوانین شرعیہ کی رو سے ہر وہ دَین جس کے مطالبے کا حق بندے کو ہو، وہ زکوٰۃ کے وجوب سے مانع ہوتا ہے، چاہے وہ دَین اللہ تعالی کا ہو، جیسے گزشتہ سالوں کی ادا نہ کی گئی زکوٰۃ وغیرہ (کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ایسا دَین ہے جس کے مطالبہ کا حق بادشاہِ اسلام کو ہے) یا کسی بندے کا ہو، جیسے قرض وغیرہ اور فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق عشر بھی اللہ تعالی کا ایسا دین ہے جسے وصول کرنے کا حق شریعت مطہرہ نے سلطانِ اسلام کو دیاہے، یہاں تک کہ اگر کوئی عشر دینے سے انکار کرے، تو سلطان اسے سزا دے کر زبردستی اس سے عشر لے گا، لہذا اگر کسی نے کئی فصلوں کا عشر ادا نہیں کیا اور وہ اتنا بنتا ہے کہ اسے منہا کرنے کے بعد فرضیتِ زکاۃ کا نصاب باقی نہیں رہتا، تو اس پر زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔
خیال رہے کہ عشر واجب ہونے کے بعد اس کی ادائیگی میں بلاوجہِ شرعی تاخیر کرنا گناہ ہے ، لہذا اس میں ہرگز تاخیر نہ کی جائے۔
کونسا دَین وجوب زکاۃ سے مانع ہوتا ہے؟ اس حوالے سے اصول بیان کرتے ہوئے امام ابوالمعالی برھان الدین ابنِ مازہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة، سواء كان الدين للعباد أولله تعالى كدين الزكاة‘‘ ترجمہ: ہر وہ دین جس کا بندوں کی طرف سے کوئی مطالبہ کرنے والا ہو زکوٰۃ کے وجوب سے مانع ہوتا ہے، چاہے وہ دین بندوں کا ہو یا اللہ تعالی کا، جیسے (گزشتہ سالوں کی) زکوٰۃ کا دین۔ (المحیط البرھانی، جلد 2، صفحہ 293، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
علامہ محمد بن محمد الکردی البزازی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”و الحاصل أن كل دين له مطالب من العباد يمنع سواء كان لله تعالى كالزكاة و العشر و الخراج أو للعباد كالثمن و الأجرة و نفقة المحارم، و ما لا مطالب له كالنذور و الكفارة و الحج لا يمنع“ ترجمہ: خلاصہ یہ ہے کہ ہر وہ قرض جس کا بندوں کی طرف سے کوئی مطالبہ کرنے والا ہو، وہ (زکاۃ وغیرہ کے وجوب میں) مانع بنتا ہے، خواہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق ہو جیسے زکاۃ، عشر اور خراج، یا بندوں کا حق ہو جیسے قیمت (ثمن)، اجرت اور محارم کی نفقہ۔ اور وہ (قرض) جس کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو، جیسے نذر، کفارہ اور حج، تو وہ مانع نہیں بنتا۔ (الفتاوی البزازیہ، ج 1، ص 76، مطبوعہ کراچی)
عشر کا مطالبہ بندوں کی طرف سے کیسے ہے؟ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ سراج الدین ابن نجیم الحنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”ماله مطالب من جهة العباد سواء كان حقاً لله تعالى كدين العشر و الخراج و زكاة السائمة و التجارة، لما أن للإمام أخذها من الآبي جبراً بعد تعزيره أو للعبد“ ترجمہ: جس کے مطالبے کا حق بندوں کو ہو، چاہے وہ حق اللہ ہو جیسے عشر، خراج، جانوروں اور مالِ تجارت کی زکاۃ کا دین، کیونکہ سلطان اسلام کو اس بات کا حق ہے کہ انکار کرنے والے کو سزا دے کر زبردستی اس سے یہ سب وصول کرے، یا پھر وہ دین حق العبد ہو۔ (النھر الفائق، جلد 1، صفحہ 414، دار الكتب العلمية، بیروت)
عشر کے ذمے پر دین ہونے کی صورت بیان کرتے ہوئے امام ابن مازہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”و كذلك الأرض العشرية إذا أخرجت طعاما، و استهلكه، و ضمن مثله دينا في الذمة، و ذلك قبل تمام الحول على الدراهم، ثم تم الحول على الدراهم فليس عليه فيها زكاة؛ لأن هنا دين له مطالب من جهة العباد، و هو الإمام.“ ترجمہ: اسی طرح عشری زمین سے جب کچھ پیداوار حاصل ہو اور مالک اسے استعمال کرلے، (جس کی وجہ سے) اتنا عشر اس کے ذمے بطور دین لازم ہوجائے، اور یہ دراہم پر سال مکمل ہونے سے پہلے ہو، پھر دراہم پر سال مکمل ہو جائے، تو اس پر دراہم میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی، کیونکہ یہاں (اس کے ذمہ) ایسا دین لازم ہے جس کے مطالبے کا حق بندوں کو ہے اور (وہ مطالبہ کرنے والا) سلطان ہے۔ (المحیط البرھانی، جلد 2، صفحہ 295، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
دین کے مال زکوٰۃ سے منہا ہونے کے حوالے سے فتاوی رضویہ میں ہے: دین عبد (یعنی بندوں میں جس کا کوئی مطالبہ کرنے والا ہو، اگرچہ دین حقیقتاً اللہ عزوجل کا ہو، جیسے دینِ زکوٰۃ جس کا حق مطالبہ بادشاہِ اسلام اعز اللہ نصرہ کو ہے)، انسان کے حوائج اصلیہ سےہے ایسا دین جس قدر ہوگا اتنا مال مشغول بحاجت اصلیہ قرار دے کر کالعدم ٹھہرے گا اور باقی پر زکوٰۃ واجب ہوگی اگر بقدرِ نصاب ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 126، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
بہار شریعت میں ہے: نصاب کا مالک ہے مگر اس پردَین ہے کہ ادا کرنے کے بعد نصاب نہیں رہتی تو زکاۃ واجب نہیں، خواہ وہ دَین بندہ کا ہو، جیسے قرض، زرثمن، کسی چیز کا تاوان یا اللہ عزوجل کا دَین ہو، جیسے زکاۃ، خراج۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 878، مکتبہ المدینہ، کراچی)
عشر کی ادائیگی فورا کرنا واجب ہے، جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: مذہبِ صحیح ومعتمد پر زکوٰۃ کا وجوب فوری ہے ۔۔۔ عشر بھی ایک نوع زکوٰۃ ہے یا کم از کم اس کا حکم، حکم زکوٰۃ ہے اور اسی طرح بعینہ اسی دلیل سے اس کا وجوب بھی فوری اور تین برس تک نہ دینے میں فسق(گناہ)۔ (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 559، 560، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-7748
تاریخ اجراء: 14 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 02 مئی 2026ء