logo logo
AI Search

گم شدہ زیور ملنے پر پچھلے سالوں کی زکوٰۃ کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

زیور کہیں رکھ کر بھول گئے، اب کافی عرصے بعد ملا تو پچھلے سالوں کی زکوۃ کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےدین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری زوجہ نے ایک بڑی پیٹی میں سونے کا سیٹ رکھا تھا۔ بعد میں وہ بھول گئیں کہ کہاں رکھا ہے؟ درمیان میں سیلاب آیا تھا تو ہماری ایک پیٹی بہہ گئی تھی، ہم سمجھے کہ وہ زیور بھی بہہ گیا حالانکہ وہ دوسری پیٹی میں تھا۔ اس واقعہ کے تقریباً 5 سال بعد ہم نے پیٹی کھولی ہے تو اب جا کر سیٹ ملا ہے۔ میری زوجہ کئی سالوں سے نصاب کی مالکہ ہے، ہر سال زکوۃ بھی نکالتی ہے۔ کیا ان پر اس زیور کی پچھلے سالوں کی زکوۃ لازم ہے یا معاف ہے؟

جواب

اموالِ زکوۃ میں سے کوئی مال اگر ایسی محفوظ جگہ رکھ دیا، جس کو ڈھونڈنا مشکل نہیں تو اگرچہ کئی سالوں تک اس کو استعمال نہ کیا ہو یا بھول گیا ہو کہ معلوم نہیں کہاں رکھ دیا؟ پھر بھی اس مال کی پچھلے تمام سالوں کی زکوۃ نکالنی ہوگی جیسے پہلے کے دور میں لوگ مال کی حفاظت کے لئے اپنا مال زمین میں دفن کردیتے تھے تو فقہائے کرام نے فرمایا کہ اگر مال کو محفوظ جگہ چھپایا ہے اگرچہ دوسرے کے گھر میں تو اس کی پچھلے سالوں کی زکوۃ دینی ہوگی۔

جیساکہ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1069ھ) حاشیہ درر غرر میں فرماتے ہیں: لو دفنه في حرز ولو دار غيره فإنه يزكيه“ یعنی اگر مال کسی محفوظ جگہ دفن کیا اگرچہ دوسرے کے گھر میں تو اس کی (پچھلے تمام سالوں کی)زکوۃ نکالے گا۔ (غنیۃ ذوی الاحکام فی بغیۃ درر الاحکام، ج 1، ص 173، مطبوعہ کراچی)

کسی غیر محفوظ جگہ مال دفنایا اور بھول گیا پھر مال ملا تو پچھلے سالوں کی زکوۃ لازم نہیں لیکن اگر محفوظ جگہ میں مال دفنایا اور بھول گیا پھر مال ملا تو پچھلے سالوں کی زکوۃ نکالے گا جیساکہ درِّ مختار میں ہے: (و مدفون ببريةنسي مكانه) ثم تذكره و كذا الوديعة عند غير معارفه بخلاف المدفون في حرز“ یعنی جس مال کو جنگل بیابان میں دفن کر کے بھول گیا پھر یاد آیا (تو پچھلے سالوں کی زکوۃ واجب نہیں) یو نہی کسی انجان کے پاس امانت رکھوائی برخلاف اس کے کہ کسی محفوظ جگہ دفن کیا (تو پچھلے سالوں کی زکوۃ واجب ہوگی)۔ (الدرّ المختار معہ ردّالمحتار، ج 3، ص 218، مطبوعہ کوئٹہ)

اس کے تحت علامہ مصطفی رحمتی ایوبی انصاری رحمۃ اللہ علیہ (حیات: 1194ھ) فرماتے ہیں: (قوله: بخلاف المدفون في حرز) لانہ یمکن استقصائہ فالتقصیر جاء من قبلہ کمن اودع عند معارفہ اذ ھم محصورون عادۃً“یعنی حفاظت والی جگہ میں دفن کیا (تو پچھلے سالوں کی زکوۃ لازم ہوگی) کیونکہ اس کو تلاش کرنا ممکن ہے اور تلاش کرنے میں کوتاہی مالک کی طرف سے ہے جیسے کہ کسی جاننے والے کے پاس ودیعت رکھوائی (تو پچھلے عرصے کی زکوۃ لازم ہوگی) کیونکہ جاننے والے عام طور پر گنے چنے ہوتے ہیں۔ (منحۃ الباری لمصطفی الانصاری علی الدر المختار، ص 247، مخطوط)

علامہ محمد بن ولی بن رسول ازمیری حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1165ھ) فرماتے ہیں: ما دفن في البيت ونسي مكانه فان فيه زكاة لما مضى لامكان الوصول اليه بالحفر و المراد بالبيت المكان المحرز سواء كان بيته او بيت غيره“ یعنی مال کو گھر میں دفن کیا اور جگہ بھول گیا تو پچھلے تمام سالوں کی زکوۃ لازم ہے کیونکہ جگہ کو کھود کر مال حاصل کرنا ممکن ہے اور گھر سے مراد محفوظ جگہ ہے خواہ اپنا گھر ہو یا دوسرے کا۔ (کمال الدرایۃ و جمع الروایۃ والدرایۃ من شروح الملتقی، ج 2، ص235، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-13939
تاریخ اجراء: 01 ربیع الاول 1447ھ / 26 اگست 2025ء