مدرسے کی تعمیر میں زکوٰۃ لگانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
زکوۃ کی رقم براہ راست مدرسے کی تعمیرات میں خرچ کرناکیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ کا زکوۃ کی رقم بغیر حیلہ شرعیہ کے مدرسے کی تعمیر میں خرچ کرنا، جائز نہیں تھا اور اس طرح دینے والوں کی زکوۃ بھی ادا نہ ہوئی، کیونکہ زکوۃ کی ادائیگی کے لئے مستحقِ زکوۃ ( یعنی شرعی فقیر، غیر ہاشمی) کو مالک بنانا ضروری ہوتا ہے، جبکہ آپ نے مستحقِ زکوۃ کو مالک بنائے بغیر وہ رقم براہِ راست مدرسے کی تعمیرات میں خرچ کر دی، اس وجہ سے آپ گناہ گار ہوئے، اللہ عزوجل کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ لازم ہے، نیز جن افراد نے زکوۃ دی تھی، ان سب کی رقم بھی بطورِ تاوان اپنی جیب سے واپس کریں اور ان کو اطلاع بھی دیں کہ وہ اپنی زکوۃ درست مصرف میں خرچ کریں۔ مدرسے کی تعمیر میں پہلے جو رقم آپ نے خرچ کی وہ آپ کی طرف سے بطورِ تبرع (نفلی صدقہ) کہلائے گا۔ البتہ زکوۃدینے والے افراد تاوان معاف کرنا چاہیں، تو معاف کر سکتے ہیں، اس صورت میں انہیں مدرسے کی تعمیرات میں خرچ کرنے کا ثواب ملے گا، لیکن یاد رہے کہ معاف کر دینے سے ان کی زکوۃ اد ا نہیں ہو جائے گی، بلکہ ان لوگوں کو نئے سرے وہ زکوٰۃ دینی ہوگی۔
تبیین الحقائق میں ہے: لا يجوز ان يبنى بالزكاة المسجد، لان التمليك شرط فيها و لم يوجد و كذا لا يبنى بها القناطر و السقايات و إصلاح الطرقات و كري الانهار و الحج و الجهاد و كل ما لا تمليك فيه‘‘ ترجمہ: زکوۃ کو مسجد کی تعمیر میں خرچ کرنا، جائز نہیں ہے، کیونکہ زکوۃ کی ادائیگی کے لئے (مستحقِ زکوۃ کو) مالک بنانا شرط ہے اور یہاں یہ شرط نہیں پائی جاتی، یونہی پلوں، پانی کی سبیلوں کی تعمیر، راستوں کی مرمت، نہروں کی کھدائی، اور حج و جہاد میں زکوۃ کو خرچ کرنا، یونہی ہر اس چیزمیں جس میں تملیک کی شرط نہ پائی جائے، اس میں زکوۃ خرچ کرنا، جائز نہیں ہے۔“ (تبیین الحقائق، کتاب الزکاۃ، جلد 1، صفحہ 300، مطبوعہ ملتان)
فتاوی رضویہ میں ہے: پھر (زکوۃ) دینے میں تملیک شرط ہے، جہاں یہ نہیں جیسے محتاجوں کو بطورِ اباحت اپنے دستر خوان پر بٹھا کر کھلا دینا یا میت کے کفن دفن میں لگانا یا مسجد، کنواں، خانقاہ، مدرسہ، پل، سرائے وغیرہ بنوانا، ان سے زکوۃ ادا نہ ہو گی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 110، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مبسوطِ سرخسی میں ہے: اما ابو حنيفة رحمه اللہ تعالى قال: هو مامور باداء الزكاة و قد ادى غير الزكاة، فكان مخالفا ضامنا ۔ ۔ ۔ ۔ لو لم نوجب الضمان ادى الى الحاق الضرر بالموكل، لانه لا يتمكن من استرداد الصدقة من الفقير ولا تضمينه والضرر مدفوع، فلهذا اوجبنا الضمان بكل حال‘‘ ترجمہ: امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ وکیلِ زکوۃ، زکوۃ کی ادائیگی پر مامور تھا، لیکن اس نے زکوۃ کے علاوہ میں (اس رقم کو) خرچ کر دیا، تو یہ اپنے مؤکل کی مخالفت کرنے والا، ضامن ہو گا، ۔ ۔ ۔ یہاں اگر ہم ضمان لازم نہ کریں، تو یہ مؤکل کو ضرر پہنچانے کی طرف لے جائے گا، کیونکہ شرعی فقیر سے صدقہ واپس لینا بھی ممکن نہیں اور نہ اسے ضامن بنا سکتے ہیں، اور (شریعت میں) ضرر کو دور کیا گیا ہے، لہذا ہم نے ہر صورت میں وکیل پر ضمان واجب قرار دیا ہے۔ (مبسوط سرخسی، کتاب الزکاۃ، جلد 2، صفحہ 210، مطبوعہ بیروت)
فتاوی فقیہ ملت میں ہے: زید نے زکاۃ و عشر اور صدقہ فطر کی رقم حیلہ شرعی کے بغیر تعمیر مدرسہ، تنخواہ مدرسین اور دیگر ضروریات میں خرچ کر دی، تو زکاۃ دینے والوں کی زکاۃ ادا نہیں ہوئی اور اس رقم کے خرچ ہو جانے کے بعد اب حیلہ کی کوئی صورت نہیں، جو کچھ خرچ کیا، تبرع ہے، اس پر لازم ہے کہ ان تمام روپیوں کا تاوان دے، ورنہ سخت گناہگار ہو گا اور یہ کہنا عذر نہیں کہ زید کم پڑھا لکھا ہے، حیلہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا اور مدرسہ کے کسی عالم نے نہیں بتایا، اس لئے کہ علم سیکھنا ہر مسلمان کے لئے بقدرِ ضرورت فرض ہے۔ (فتاوی فقیہ ملت، جلد 1، صفحہ 311، شبیر برادرز، لاہور)
جس پر تاوان ہو، اسے معاف کیا جا سکتا ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے: اگر وہ کپڑا اس نے تلف کر دیا، یہاں تک کہ اس کا اس پر تاوان لازم آیا اور اس نے وہ تاوان معاف کر دیا، تو معافی صحیح ہے اور نیتِ محمود ہو، تو اجر پائے گا اور یہ خود ایک صدقہ ٔنفل ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 73، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-6632
تاریخ اجراء: 30 ربیع الثانی 1442ھ / 16 دسمبر 2020ء