کیا اپنی خالہ کو زکوۃ دی جاسکتی ہے؟
خالہ کوزکوۃ دینا
مجیب:ابو رجا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتوی نمبر:WAT-341
تاریخ اجراء:09جُمادَی الاُولٰی1443ھ/14دسمبر2021
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا اپنی خالہ کو اپنی زکوۃ دی جاسکتی ہے، جبکہ وہ عاقلہ بالغہ، غیر شادی شدہ ہیں اور جاب بھی نہیں کرتیں۔؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
اگر خالہ شرعی فقیر ہوں (یعنی ان کی ملکیت میں حاجت اصلیہ کے علاوہ اور قرض ہو تو اسے نکالنے کے بعد اتنا مال یا سامان وغیرہ نہ بچے جوساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو) اور وہ سید یا ہاشمی بھی نہ ہوں تو انہیں زکوۃ دے سکتے ہیں۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم