logo logo
AI Search

زکوٰۃ سے سید کا قرض ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

زکوٰۃ کی رقم سے سید کا قرض ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی یا نہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا کسی سید کا قرضہ زکوٰۃ کی رقم سے اتار سکتے ہیں اور ایسی صورت میں زکوٰۃ ادا ہو جائے گی یا نہیں؟

جواب

خلوصِ نیت کے ساتھ ساداتِ کرام کی خدمت اور ان کے ساتھ بھلائی کرنا عین سعادت اور قیامت کے سخت ضرورت و حاجت کے دن ان کے جدِ امجد، مکی مدنی محمد عربی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے بڑے بڑے انعام و اکرام پانے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات سے مشرف ہونے کا ذریعہ ہے۔ جسے یہ دولت و سعادت مل سکے اسے محروم نہ رہنا چاہئے۔ لیکن ساداتِ کرام کی خدمت صاف مال سے کی جائے، ان نفوسِ قدسیہ کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی، نہ یہ حضرات زکوٰۃ لے سکتے ہیں کہ زکوٰۃ مال کا میل اور گناہوں کا دھووَن ہے جو کہ ان نفوسِ قدسیہ کے لائق نہیں، لہٰذا زکوٰۃ سے ان کا قرضہ بھی ادا نہیں ہو سکتا اور ایسی صورت میں زکوٰۃ بھی ادا نہیں ہوگی۔ اگر زکوٰۃ سے ہی دینا ہے تو پھر یوں کر سکتے ہیں کہ پہلے زکوٰۃ کی رقم کسی غیر ہاشمی شرعی فقیر مستحقِ زکوٰۃ کے قبضے میں اس رقم کا اسے مالک بناتے ہوئے دے دیں کہ زکوٰۃ ادا ہو جائے اور اسے ترغیب دلا دیں کہ یہ رقم ان سید صاحب کا قرضہ اتارنے میں دے دے، یوں زکوٰۃ ادا ہوگئی، قرضہ بھی اتر گیا اور سب ثواب کے حقدار ہوئے۔

صحیح مسلم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”ان ھذہ الصدقات انما ھی أوساخ الناس وانھا لا تحل لمحمد ولا لآل محمد صلی اللہ علیہ وسلم“ ترجمہ: بے شک يہ صدقات لوگوں کے (اموال کے) میل ہی ہیں اور يہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آلِ محمد کے لئے حلال نہیں۔ “ (صحیح مسلم، ص540، الحدیث: 2482، دار الکتاب العربی، بیروت)

مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: ”یہ حدیث ایسی واضح اور صاف ہے جس میں کوئی تاویل نہیں ہوسکتی یعنی مجھے اور میری اولاد کو زکوٰۃ لینا اس لیے حرام ہے کہ یہ مال کا میل ہے لوگ ہمارے میل سے ستھرے ہوں، ہم کسی کا میل کیوں لیں۔“ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد 3، صفحہ 60، قادری پبلشرز، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ حاجت مند ساداتِ کرام کو زکوٰۃ دینے سے متعلق فرماتے ہیں: ”سید کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے اور دیں گے تو ادا نہ ہوگی۔ ۔ ۔ اگر وہ حاجت مند ہوں تو اور اموال سے خدمت کریں اور زکوٰۃ ہی کا پیسہ دینا چاہیں تو کسی مستحقِ زکوٰۃ کو دیں اور مالک کر دیں اور اس سے کہدیں کہ تو اپنی طرف سے فلاں کو دیدے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔“ (فتاویٰ امجدیہ، ج 1، ص 390، مکتبہ رضویہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی

فتوی نمبر: Web-2599

تاریخ اجراء:25 جمادی الاولٰی 1447ھ/17 نومبر 2025ء