logo logo
AI Search

غیر مستحق کو زکوٰۃ کا حیلہ کر کے مکان دلانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

داماد کو مکان خریدنے کے لیے زکوٰۃ کی رقم کا حیلہ کر کے دینا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

زکوٰۃ کے مصارف میں بنیادی مصرف فقراء و مساکین ہیں، کیونکہ زکوٰۃ کی اصل حکمت فقیر کی حاجت پوری کرنا ہے۔ البتہ فقہائے کرام نے نیکی اور ثواب کے کاموں میں جہاں حقیقی شرعی ضرورت پائی جائے، تو ہاں صرف ضرورتِ شرعیہ کے پیشِ نظر زکوٰۃ کی رقم کا حیلہ کرکے خرچ کرنے کی گنجائش ذکر فرمائی ہے۔ صورتِ مسئولہ میں غیر مستحق داماد کو مکان خریدنے کے لیے رقم دینے میں کوئی شرعی ضرورت موجود نہیں، لہذا اس مقصد کے لیے زکوٰۃ کی رقم کا حیلہ کرنا، ایک غیر مصرف اور غیر دینی کام میں زکوۃ خرچ کرنا ہے جو کہ سخت مذموم، ناجائزو گناہ اور مقاصدِ شریعت کے سراسرخلاف ہے، اس کی ہرگز اجازت نہیں۔ داماد کی گھر خریدنے میں مدد کرنی ہو تو صاف رقم سے کی جائے، زکوۃ کو استعمال نہ کیا جائے۔

سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: ’’ہزاروں روپے فضول خواہش یاد نیوی آسائش یا ظاہری آرائش میں اٹھانے والے مصارف خیر میں ان حیلوں کی آڑ نہ لیں۔ متوسط الحال بھی ایسی ہی ضرورتوں کی غرض سے خالص خدا ہی کے کام میں صرف کرنے کیلئے ان طریقوں پر اقدام کریں، نہ یہ کہ معاذ اللہ ان کے ذریعے سے ادائے زکوۃ کا نام کر کے رو پیہ اپنے خُرد بُرد میں لائیں کہ یہ امر مقاصد شرع کے بالکل خلاف اور اس میں ایجاب زکوۃ کی حکمتوں کا یکسر ابطال ہے تو گویا اس کا برتنا اپنے رب عزوجل کو فریب دینا ہے۔ و العیاذ بالله رب العالمین۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحه 109، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ ارشادفرماتے ہیں: ’’بلاضرورت شرعیہ زکوۃ،فطرے کی رقم مستحقین کے علاوہ میں صرف کرنا سخت مذموم ہے خصوصاً غیر دینی کاموں میں۔ خصوصاً جب خود اپنے ہی اوپر یا مال داروں پر خرچ ہو ۔ ۔ ۔ بہت سے ناخدا ترس حیلہ کر کے زکوۃ کی رقم خود رکھ لیتے ہیں۔ کیا زکوۃ اسی لئے مشروع ہوئی تھی؟ کیا زکوۃ کا منشاء یہی ہے؟ کیا یہ زکوۃ کی ادائیگی سے فرار نہیں؟ کیا یہ اصحاب سبت کے فعل سے مشابہ نہیں؟ انہوں نے یہی تو کیا تھا۔‘‘ (نزهة القاري شرح صحيح البخاری، جلد 2، صفحه 921، 922، فريد بك اسٹال، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1299
تاریخ اجراء: 03 ربیع الاول 1448ھ / 17 اگست 2026ء