logo logo
AI Search

ذاتی زرعی زمین والی عورت یا ڈرائیور کو زکوۃ دینا؟

ڈرائیور یا کام والی کو زکوٰ ۃ دینا جبکہ ان کی زرعی زمین بھی ہو ؟

مجیب:مولانا رضا محمد مدنی
فتوی نمبر:Web-1616
تاریخ اجراء:19رمضان المبارک1445 ھ/30مارچ2024 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ڈرائیور یا گھر میں کام کرنے والیوں کی گاؤں میں زمینیں وغیرہ ہوتی ہیں کھیتی باڑی کی اور وہ ہمارے یہاں کام بھی کرتے ہیں تو انہیں زکوٰۃ دینا کیسا؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جس کو بھی زکوٰۃ دی جائے اس کے لئے دو باتیں ضروری ہیں: پہلی یہ کہ وہ نسبی اعتبار سے ہاشمی خاندان سے نہ ہو اور دوسری بات یہ کہ وہ شرعی فقیر ہو۔ شرعی فقیر وہ شخص ہوتا ہے جس کے پاس حاجت ِ اصلیہ سے زائد اتنا مال موجود نہ ہو جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زائد ہو۔

گھر میں کام کرنے والے ڈرائیور یا عورت کی ذاتی ملکیت میں زرعی زمین ہے، لیکن اس کی جتنی آمدن ہوتی ہے وہ ضروریات میں خرچ ہو جاتی ہے جیسا کہ عام طور پر ایسے افراد کے ہاں یہی صورتحال ہوتی ہے، تو اس صورت میں وہ زمین حاجتِ اصلیہ میں داخل ہوگی، اگر ان کے پاس اس زمین کےعلاوہ حاجت سے زائد اتنا مال نہیں ہے جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زائد مالیت کا ہو تو ان کو زکوٰۃ دینا جائز ہوگا جبکہ وہ ہاشمی خاندان سے نہ ہوں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم