کرائے پر دینے والے ڈیکوریشن کے مال پر زکوٰۃ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کرائے پر چلنے والی کرسیوں، ٹینٹ اور برتن وغیرہ پر زکوٰۃ کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید ایک عرصے سے ایونٹ مینجمنٹ (Event Management) اور ڈیکوریشن کا کاروبار کر رہا ہے۔ اس نے اس کاروبار کے لیے لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری کر کے ڈیکوریشن کا بہت سا سامان خرید رکھا ہے، جس میں سینکڑوں کرسیاں، میز، مختلف اقسام کے ٹینٹ، پردے، برتن، لائٹس اور قالین وغیرہ شامل ہیں۔ زید کی دکان اور گودام میں موجود اس سامان کی مجموعی مالیت اس وقت تقریباً 50 لاکھ روپے ہے۔ زید نے یہ سامان کسی گاہک کو فروخت (Sale) کرنے کی نیت سے نہیں خریدا، بلکہ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لیے مخصوص وقت کے لیے کرائے (Rent) پر دینے کی نیت سے خریدا ہے اور تقریب ختم ہونے کے بعد سامان واپس اپنے گودام میں منتقل کر لیتا ہے، اب زکوٰۃ کی ادائیگی کا وقت قریب ہے۔ وہ اس الجھن کا شکار ہے کہ کیا اسے اِس پچاس لاکھ کے سامان کو بھی زکاۃ میں شامل کرنا ہوگا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں زکوۃ کا حساب کرتے وقت ڈیکوریشن کے سامان کی اصل قیمت (50 لاکھ) کو زکوۃ میں شامل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ یہ سامان مال تجارت نہیں اور جو سامان مال تجارت نہ ہو، اس پر زکوۃ فرض نہیں ہوتی۔ مالِ تجارت وہ سامان ہوتا ہے جسے بیچنے کےلئے خریدا ہو، کرائے پر دینے کےلئے خریدے ہوئے مال کو شریعت میں مالِ تجارت نہیں کہتے۔ البتہ یہ یادرہے کہ اس سامان کے ذریعے حاصل ہونے والے کرائے کی رقم قرض اور حاجت اصلیہ سے زائد ہو اور وہ خود یا دیگر اموالِ زکوٰۃ کے ساتھ مل کر نصاب یعنی ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے تو زکوٰۃ کی دیگر شرائط پائی جانے کی صورت میں اس رقم پر زکوٰۃ فرض ہو گی۔
زکوٰۃ مالِ تجارت پر فرض ہوتی ہے، چنانچہ سننِ ابی داؤد میں حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
فان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کان یامرنا ان نخرج الصدقۃ من الذی نعد للبیع
ترجمہ: پس بیشک حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اس چیز کی بھی زکوٰۃ ادا کریں جس کو ہم تجارت کے لئے مہیا کریں۔ (سنن ابی داؤد، جلد 2، صفحه 228، مطبوعہ المكتبة العصرية، بيروت)
اس حدیث کی شرح میں علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
و بالحديث استدل العلماء أن المال الذي يعد للتجارةإذا بلغت قيمته نصابا تجب فيه الزكاة من أي صنف كان
ترجمہ: اور اسی حدیث سے علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ وہ مال جو تجارت کے لیے تیار کیا گیا ہو، جب اس کی قیمت نصاب کو پہنچ جائے تو اس میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، خواہ وہ کسی بھی قسم سے ہو۔ (شرح سنن ابی داؤد للعینی، جلد 6، صفحہ 219، مطبوعہ مكتبة الرشد، الرياض)
بدائع الصنائع میں ہے:
أموال الزكاة أنواع ثلاثة أحدها: الأثمان المطلقة و هي الذهب والفضة، و الثاني: أموال التجارة وهي العروض المعدة للتجارة، و الثالث: السوائم
ترجمہ: زکوٰۃ کے مال کی تین قسمیں ہیں: (1) مطلق ثمن یعنی سونا چاندی (اور ہر طرح کی کرنسی)۔ (2) مالِ تجارت۔ (3) چرائی کے جانور۔ ( بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 16، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
ڈیکوریشن کے سامان سے حاصل ہونے والے کرائے پر شرائط پائے جانے کی صورت میں زکوۃ لازم ہوگی، جیساکہ الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں ہے:
لا تجب الزكاة في أعيان العمائر الاستغلالية و المصانع و السفن و الطائرات و ما أشبهها، بل تجب في صافي غلتها عند توافر شروط النصاب و حولان الحول
ترجمہ: کرائے پر چلنے والی عمارتوں (پلازوں)، کارخانوں (فیکٹریوں)، بحری جہازوں، ہوائی جہازوں اور ان جیسی دیگر چیزوں کی اپنی ذات (یعنی اثاثوں کی مالیت) پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے، بلکہ زکوٰۃ ان کی خالص آمدنی پر واجب ہوگی، بشرطیکہ نصاب اور سال پورا ہونے کی شرائط پائی جائیں۔ (الفقہ الاسلامی و ادلۃ، جلد 3، صفحہ 1947، مطبوعہ دار الفکر، دمشق)
فتاوی رضویہ میں ہے (کرائے کے) مکانات پر زکوٰۃ نہیں، اگرچہ پچاس کروڑ کے ہوں، کرایہ سے جو سال تمام پر پس انداز ہو گا اس پر زکوٰۃ آئے گی، اگر خود یا اور مال سے مل کر قدرِ نصاب ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 161، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9761
تاریخ اجراء: 09 شعبان المعظم 1447ھ / 29 جنوری 2026ء