بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا میں اپنی نند کو زکوۃ دے سکتی ہوں؟
اگر آپ کی نند واقعی شرعی فقیر یعنی مستحق زکوۃ ہو اور ساتھ ہی ہاشمی خاندان سے بھی نہ ہوں، تو آپ ان کو زکوۃ دے سکتی ہیں، شرعاً اس کی ممانعت نہیں، کیونکہ زکوۃ اپنے اصول یعنی جن کی اولاد میں زکوۃ دینے والا ہو، جیسے حقیقی ماں، باپ؛ دادا، دادی؛ نانا، نانی، اور اپنے فروع یعنی جو زکوۃ دینے والے کی اولاد میں ہوں جیسے حقیقی بیٹا، بیٹی؛ پوتا، پوتی؛ نواسا، نواسی وغیرہ کو اور شوہر و بیوی کا ایک دوسرے کو دینا جائز نہیں، ان کے علاوہ دوسرے رشتے داروں کو زکوۃ دی جاسکتی ہے، بشرطیکہ وہ شرعی فقیر ہوں اور ہاشمی نہ ہوں۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے
(و) لا إلى (من بينهما ولاد)
یعنی: اور نہ اُن کو زکوٰۃ دینا جائز ہے کہ جن کےدرمیان رشتۂ ولادت کا تعلق ہو۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے
و قید بالولاد لجوازہ لبقیۃ الاقارب کالاخوۃ و الاعمام و الاخوال الفقراء، بل ھم اولی لانہ صلۃ و صدقۃ
ترجمہ: اور اس میں رشتہ ولادت کی قید لگائی گئی کیونکہ دوسرے قریبی رشتہ داروں کو زکوۃ دینا جائز ہے جیسے بھائی،چچا، ماموں کو جبکہ وہ مستحق زکوۃ ہوں، بلکہ ان کو دینا زیادہ بہتر ہے کیونکہ ان کو دینا صلہ رحمی اور صدقہ دونوں ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار، جلد 3، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، صفحہ 344، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مصرفِ زکوٰۃ ہر مسلمان حاجت مند جسے اپنے مملوک سے مقدارِ نصاب فارغ عن الحوائج الاصلیہ پر دسترس نہیں بشرطیکہ نہ ہاشمی ہو، نہ اپنا شوہر نہ اپنی عورت اگرچہ طلاقِ مغلظہ دے دی ہو جب تک عدت سے باہر نہ آئے، نہ وہ جو اپنی اولاد میں ہے جیسے: بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسا نواسی، نہ وہ جن کی اولاد میں یہ ہے جیسے: ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 246، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک اور مقام پرفرماتے ہیں: آدمی جن کی اولاد میں خود ہے یعنی ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی یا جو اپنی اولاد میں ہیں یعنی بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسا نواسی، اور شوہر و زوجہ۔ ان رشتوں کے سوا اپنے جو عزیز، قریب، حاجت مند مصرفِ زکاۃ ہیں، اپنے مال کی زکاۃ انہیں دے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 264، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4597
تاریخ اجراء: 11 رجب المرجب 1447ھ / 01 جنوری 2026ء